میں مایوسی نہیں پھیلانا چاہتا، لیکن صورتحال بہت خراب ہے
عمران خان سے ملاقات اور طبی علاج کو براہ راست اس شرط سے جوڑ دیا گیا کہ 5 اضلاع میں آپریشن کی منظوری دیں، محسن نقوی نے واضح کر دیا تھا کہ معاملات ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں، رہنماء تحریک تحفظ آئین کی گفتگو

لاہور(قدرت روزنامہ)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے معاشی ترجمان محمد زبیر عمر کا کہنا ہے کہ میں مایوسی نہیں پھیلانا چاہتا، لیکن صورتحال بہت خراب ہے، عمران خان سے ملاقات اور طبی علاج کو براہ راست اس شرط سے جوڑ دیا گیا کہ 5 اضلاع میں آپریشن کی منظوری دیں، محسن نقوی نے واضح کر دیا تھا کہ معاملات ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو میں مایوسی نہیں پھیلانا چاہتا، لیکن صورتحال بہت خراب ہے۔ ہمیں اس حوالے سے دیانت دار ہونا چاہیے۔ جب دو دن کی بات چیت ہوئی اور وہ باہر آئے، میں کراچی میں موجود تھا تو میری ظاہر ہے ان سے بات ہو رہی تھی۔ میری علامہ صاحب سے زیادہ بات ہوتی تھی , وہ ایک انتہائی سنجیدہ شخصیت ہیں، جن کی اقتدار کی کوئی ہوس نہیں ہے اور نہ ہی وہ اقتدار کی کوئی کشمکش کر رہے ہیں؛ وہ محض سیاست کر رہے ہیں۔
جب ان سے بات چیت میں تھوڑا اشارہ مل رہا تھا تو میں اسی وقت یہ سوال کر رہا تھا کہ بیچ میں یہ دہشت گردی کا معاملہ کہاں سے آ گیا؟ یہ ایک بہت سادہ سا سوال ہے۔ آپ واقعات کا تسلسل دیکھیں۔ اگست کے وسط میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا کہ انہیں طبی سہولیات فراہم کی جائیں، ان کی بچوں سے بات کروائی جائے اور ان کے ڈاکٹر کو میڈیکل بورڈ کا حصہ بنایا جائے، لیکن اسے نافذ نہیں کیا گیا۔
پہلے تو میں مایوسی نہیں پھیلانا چاہتا، لیکن صورتحال بہت خراب ہے۔ ہمیں اس حوالے سے دیانت دار ہونا چاہیے۔ جب دو دن کی بات چیت ہوئی اور وہ باہر آئے، میں کراچی میں موجود تھا تو میری ظاہر ہے ان سے بات ہو رہی تھی۔
میری علامہ صاحب سے زیادہ بات ہوتی تھی , وہ ایک انتہائی سنجیدہ شخصیت ہیں، جن کی اقتدار کی کوئی ہوس نہیں ہے اور نہ ہی وہ اقتدار کی کوئی کشمکش کر رہے ہیں؛ وہ محض سیاست کر رہے ہیں۔
جب ان سے بات چیت میں تھوڑا اشارہ مل رہا تھا تو میں اسی وقت یہ سوال کر رہا تھا کہ بیچ میں یہ دہشت گردی کا معاملہ کہاں سے آ گیا؟ یہ ایک بہت سادہ سا سوال ہے۔ آپ واقعات کا تسلسل دیکھیں۔ اگست کے وسط میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا کہ انہیں طبی سہولیات فراہم کی جائیں، ان کی بچوں سے بات کروائی جائے اور ان کے ڈاکٹر کو میڈیکل بورڈ کا حصہ بنایا جائے، لیکن اسے نافذ نہیں کیا گیا۔
حکومت جو مرضی کہے، بچوں سے بات نہیں کروائی گئی۔ اس میں کوئی سیکیورٹی کا خطرہ تو نہیں تھا، چلیں شفا ہسپتال نہیں لے جا سکتے تھے کیونکہ سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، لیکن بچوں سے بات کروانے میں تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ پونے دو مہینے گزرنے کے باوجود اب تک بات نہیں کروائی گئی۔
بہرحال، ورکرز کا بہت شدید دباؤ تھا۔ سیاسی جماعت ورکرز ہی سے تو بنتی ہے۔ اس دباؤ کے تحت سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دے دی۔ اس پر حکومت نے وہی کیا جو کوئی بھی اچھی حکومت کرتی ہے؛ انہوں نے انگیج کرنے کی کوشش کی اور یقین دہانیاں کروائیں۔ جمعرات کے روز، جس طرح میں بھی ٹاک شوز میں ہوتا ہوں، میں کامران شاہد کے پروگرام میں طارق فضل چوہدری کے ساتھ موجود تھا۔
وہاں کامران شاہد نے پوچھا کہ حکومت کیا کرے کہ یہ احتجاج کی کال واپس لے لی جائے؟ میں نے کہا کہ ان احکامات پر عمل درآمد کردیں۔ کل صبح بچوں سے بات کروا دیں، بہنوں کو چھوڑ دیں، اور طبی علاج کی سہولت دے دیں، اس میں کیا بڑی بات ہے؟ اس سے آپ کی ایک ہیجانی کیفیت فوراً کم ہو جائے گی۔
طارق فضل چوہدری کا وہی جواب تھا جو پچھلے ایک مہینے سے تمام حکومتی وزراء دے رہے ہیں کہ "ہاں، ہاں، وہ ہم کروا رہے ہیں"۔ لیکن انہوں نے کبھی بھی ان مطالبات کو دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی منظوری کے ساتھ نتھی نہیں کیا تھا۔
مذاکرات شروع ہونے سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، مگر وہاں جا کر آپ نے یہ کر دیا۔
جو کچھ میں نے علامہ صاحب کی زبانی سنا ہے، اور باقی بھی ایک دو افراد سے، جن میں سلمان وغیرہ شامل ہیں، بات یہ ہے کہ محسن نقوی نے یہ واضح کر دیا تھا کہ یہ معاملات ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اگر آپ آپریشنز کی منظوری نہیں دیں گے، تو یہ نہیں ہوگا۔ یعنی عمران خان سے ملاقات، ان کا طبی علاج، سب کچھ براہ راست اس شرط سے منسلک کر دیا گیا کہ اب آپ پانچ اضلاع میں آپریشن کی منظوری دیں۔
آپریشن کا مطلب یہ ہے کہ وہاں تمام بنیادی حقوق ختم ہو جائیں گے۔ آپ کسی کو بھی اٹھائیں، کسی کو غائب کریں یا کسی کو مار دیں، کوئی سوال کرنے والا نہیں ہوگا۔ یہ بہت بڑے معاملات ہیں اور ان کے پیچھے ایک تلخ تاریخ موجود ہے۔ آپ اس پر کیسے رضامند ہو سکتے ہیں؟ میں یہ نہیں کہہ رہا، دہشت گردی ہماری ریاست کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں۔ لیکن اس کے لیے سنجیدگی ہونی چاہیے تھی۔ سنجیدگی کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے اتنے عرصے میں کوئی پیش قدمی کیوں نہیں کی؟ چلیں، احتجاج کی کال سے دو مہینے پہلے کیا حکومت نے یہ کہا تھا کہ ہم آپریشن کرنا چاہتے ہیں اور اپوزیشن کے ساتھ اس پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں؟ کب کہا تھا؟معاشی ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان محمد زبیر عمر
— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) October 7, 2026
حکومت جو مرضی کہے، بچوں سے بات نہیں کروائی گئی۔ اس میں کوئی سیکیورٹی کا خطرہ تو نہیں تھا، چلیں شفا ہسپتال نہیں لے جا سکتے تھے کیونکہ سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، لیکن بچوں سے بات کروانے میں تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ پونے دو مہینے گزرنے کے باوجود اب تک بات نہیں کروائی گئی۔ بہرحال، ورکرز کا بہت شدید دباؤ تھا۔
سیاسی جماعت ورکرز ہی سے تو بنتی ہے۔ اس دباؤ کے تحت سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دے دی۔ اس پر حکومت نے وہی کیا جو کوئی بھی اچھی حکومت کرتی ہے؛ انہوں نے انگیج کرنے کی کوشش کی اور یقین دہانیاں کروائیں۔ جمعرات کے روز، جس طرح میں بھی ٹاک شوز میں ہوتا ہوں، میں کامران شاہد کے پروگرام میں طارق فضل چوہدری کے ساتھ موجود تھا۔ جو کچھ میں نے علامہ صاحب کی زبانی سنا ہے، اور باقی بھی ایک دو افراد سے، جن میں سلمان وغیرہ شامل ہیں، بات یہ ہے کہ محسن نقوی نے یہ واضح کر دیا تھا کہ یہ معاملات ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
اگر آپ آپریشنز کی منظوری نہیں دیں گے، تو یہ نہیں ہوگا۔ یعنی عمران خان سے ملاقات، ان کا طبی علاج، سب کچھ براہ راست اس شرط سے منسلک کر دیا گیا کہ اب آپ پانچ اضلاع میں آپریشن کی منظوری دیں۔
