ایران جنگ میں امریکا کے 81 جنگی طیارے تباہ، 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کا نقصان: کانگریس رپورٹ

واشنگٹن(قدرت روزنامہ)امریکی کانگریس کی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی فوج کے 81 جہاز یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا پھر انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس فہرست میں لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرونز شامل ہیں، جن میں ایم کیو نائن ریپر ڈرون سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جو کہ ان کل نقصانات کے آدھے سے زیادہ حصے پر مشتمل ہیں۔ یہ ڈرون خفیہ معلومات کے حصول، نگرانی اور جنگی کارروائیوں میں معاونت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
تباہ ہونے والے عسکری اثاثوں میں پینٹاگون کے سب سے قیمتی اور جدید ترین جنگی طیارے بھی شامل ہیں، جن میں ایک ایف 35 اے اسٹیلتھ فائٹر جیٹ اور ایک ای-تھری سینٹری ایئر بورن ارلی وارننگ طیارہ شامل ہے، جو کہ فضا میں دشمن کے اہداف پر نظر رکھتا ہے۔
کانگریس کے بجٹ دفتر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دفاعی شعبے کی جانب سے ان تباہ شدہ 81 طیاروں کی جگہ نئے طیارے خریدنے یا پرانوں کی جگہ متبادل تیار کرنے کا خرچ 1.9 ارب ڈالر سے لے کر 3.3 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران سے جاری اس جنگ کی مجموعی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کے مطابق،یہ لاگت کم از کم 45 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
اس رقم میں مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کے ڈھانچے کو پہنچنے والا وہ نقصان شامل نہیں ہے جہاں یہ تمام طیارے موجود تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تباہ ہونے والے چند طیاروں کو شاید مرمت کے بعد دوبارہ سروس میں شامل کر لیا گیا ہو، جن میں اردن کے موافق سلطی ایئر بیس پر ستمبر میں ہونے والے ایرانی حملے میں متاثر ہونے والے آٹھ ایف 15 اسٹرائیک ایگل جیٹس شامل ہیں۔
کانگریس کی رپورٹ نے قانون سازوں کے سامنے متعدد اہم سوالات اٹھائے ہیں جن میں یہ بات شامل ہے کہ کیا پینٹاگون کی طرف سے ان نقصانات اور ان کے اثرات پر اتنی معلومات مل رہی ہیں جس سے مستقبل کی حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کانگریس کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ای تھری سینٹری جیسے مخصوص اور محدود تعداد والے طیاروں کے نقصان سے دنیا کے دیگر خطوں میں امریکی دفاعی صلاحیت متاثر تو نہیں ہو رہی۔
تجزیہ کاروں اور امریکی ایئر فورس کے چیف آف اسٹاف جنرل کینتھ ولس بیک کے مطابق ایم کیو نائن ڈرونز ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی فوج کے سب سے اہم کھلاڑی تھے، تاہم یمن کے حوثی باغیوں اور ایران کے ساتھ جھڑپوں کی وجہ سے اس سال مشرقِ وسطیٰ میں 45 ایسے ڈرونز تباہ ہو چکے ہیں جو کہ ایک انتہائی تشویش ناک رفتار ہے۔
