جنوبی پشتونخوا کے طلبہ کو تعلیمی وظائف سے محروم رکھنا ناانصافی ہے، امتیازی پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے: خوشحال خان کاکڑ

گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ژوب کو فوری پوسٹ گریجویٹ کا درجہ دیا جائے، طلبہ کی جمہوری اور ہم نصابی سرگرمیوں پر پابندیاں بلاجواز ہیں


اٹھارہویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، پشتون اور بلوچ علاقوں میں برابری کی بنیاد پر تعلیمی وسائل فراہم کیے جائیں
ژوب(ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ طلبا و طالبات کو اعلی تعلیم کے حصول پر بھرپور توجہ دینی چاہیے، کیونکہ معیاری تعلیم کے ذریعے ہی مختلف شعبوں میں ماہرین پیدا ہوسکتے ہیں جو قوم کا اثاثہ ثابت ہوں گے۔گورنمنٹ ڈگری کالج ژوب میں طلبا کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ ہر ڈویژن کے مرکز میں اعلی یونیورسٹی کا قیام اور گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ژوب کو فوری طور پر پوسٹ گریجویٹ کالج کا درجہ دینا ضروری ہے، جس کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ژوب اور شیرانی کے فیڈر اسکولوں سے ہر سال سینکڑوں طلبا فارغ ہوتے ہیں، تاہم مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث غریب طلبا کے لیے دور دراز شہروں میں تعلیم جاری رکھنا مشکل ہے۔ ان کے مطابق ژوب میں اعلی درجے کی یونیورسٹی کا قیام اور فوری طور پر تعلیمی سلسلے کا آغاز وقت کی اہم ضرورت ہے۔خوشحال خان کاکڑ نے طلبا پر زور دیا کہ وہ سستی اور کاہلی ترک کرکے تعلیم کے حصول پر توجہ دیں، نصاب پر عبور حاصل کریں اور محنت کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں۔ انہوں نے کہا کہ اعلی تعلیم کے نتیجے میں مختلف شعبوں کے ماہرین پیدا ہوسکتے ہیں اور طلبا مستقبل میں قوم کی رہنمائی اور خدمت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے طلبا و طالبات کی سیاسی، ثقافتی، جمہوری اور غیر نصابی سرگرمیوں پر پابندی کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان طبقہ موجودہ حالات کا شعور رکھتا ہے اور تعلیم کے ساتھ معاشرتی و سیاسی سرگرمیوں میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے پشتونخوا وطن میں تعلیم عام کرنے، معیاری و مفت تعلیم کی فراہمی اور طلبا و طالبات کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی ہے۔ ان کے مطابق ژوب کے تعلیمی اداروں سے کئی اہم ماہرین اور سیاسی رہنما تعلیم حاصل کرکے قومی خدمت میں کردار ادا کرچکے ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ جنوبی پشتونخوا کے طلبا و طالبات کو تعلیمی وظائف سمیت مختلف شعبوں میں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور وظائف کی فراہمی خوش آئند ہے، تاہم جنوبی پشتونخوا کے ساتھ بھی برابری کی بنیاد پر وسائل اور مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ پشتون سیاسی و قومی تحریک اپنے حقوق اور اختیارات کے حصول کے لیے پرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا قومی سیاسی تحریک کو کمزوری سمجھنا درست نہیں اور حکومت کو امتیازی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔انہوں نے طلبا پر زور دیا کہ پہلے مرحلے میں اپنی تمام توجہ علم کے حصول پر مرکوز کریں، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور اعلی اخلاق و کردار کے حامل شہری بنیں تاکہ مستقبل میں اپنے خاندان، علاقے اور وطن کی خدمت کرسکیں۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، اس لیے صوبائی حکومت کو تعلیم کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پشتون اور بلوچ علاقوں میں برابری کی بنیاد پر پرائمری سے اعلی تعلیم تک سہولیات فراہم کی جائیں، ہر ڈویژن کے مرکز میں اعلی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں اور تعلیمی شعبے کے لیے خصوصی گرانٹ مختص کی جائے۔اس موقع پر پشتونخوا ایس او کے زونل مرستیال سیکرٹری ایمل ساروان نے پارٹی چیئرمین اور وفد کو کالج آمد پر خوش آمدید کہا۔ کالج کے پرنسپل اور اساتذہ نے خوشحال خان کاکڑ اور پارٹی وفد کا استقبال کیا اور کالج کے مسائل سے آگاہ کیا، جن کے حل کے لیے انہوں نے متعلقہ حکام سے رابطے کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

WhatsApp
Get Alert