‘وزیرِ اعظم امبانی’: ایلون مسک کا مودی پر طنز، بھارت میں اسٹار لنک پر تنازع کی اصل کہانی

نئی دہلی (قدرت روزنامہ)ریلائنس انڈسٹریز کے مالک مکیش امبانی کو طنزیہ طور پر ’پرائم منسٹر امبانی‘ کہہ کر مخاطب کرنے کے بعد ایلون مسک اور نریندر مودی کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔
اسٹار لنک کے بانی ایلون مسک اور بھارتی ٹیکنالوجی و مواصلاتی مارکیٹ کے درمیان کشیدگی اس وقت ایک شدید سفارتی اور سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
ایلون مسک نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے ریلائنس انڈسٹریز کے مالک مکیش امبانی کے نام جاری ایک پوسٹ میں لکھا کہ ”براہِ کرم میری عاجزانہ معذرت قبول کریں، میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ آپ ہی بھارت کے اصل مالک یا باس ہیں“۔
ایلون مسک نے سوال کیا کہ ”کیا امبانی بھارتی عوام کے اجارہ دارانہ استحصال کو برقرار رکھنے کے باوجود اسٹار لنک کو ملک میں مقابلہ کرنے کی اجازت دیں گے؟“
اس کے ساتھ ہی ایلون مسک نے کچھ خبروں کے اسکرین شاٹس بھی پوسٹ کیے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا ریلائنس نے مودی کی پارٹی بی جے پی کو فنڈز فراہم کیے ہیں۔
ایلون مسک کا کہنا تھا کہ بھارت میں پانچ سال سے تمام قانونی اور سیکیورٹی تقاضے پورے کرنے کے باوجود ان کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک کو لائسنس نہیں دیا جا رہا اور کچھ طاقتور کاروباری شخصیات اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
ایلون مسک کی کمپنی ’اسپیس ایکس‘ اپنے انٹرنیٹ پروجیکٹ اسٹار لنک کے ذریعے بھارت کی وسیع اور غیر فعال دیہی مارکیٹ میں قدم رکھنا چاہتی ہے، جہاں دور دراز علاقوں میں روایتی کیبل یا موبائل نیٹ ورک کی پہنچ نہ ہونے کی وجہ سے انٹرنیٹ دستیاب نہیں ہے۔
ایلون مسک کا دعویٰ ہے کہ اسٹار لنک سے بھارت کے بچوں کی تعلیم اور چھوٹے کاروباریوں کو عالمی منڈی تک رسائی ملے گی، نیز قدرتی آفات کے دوران جب دیگر مواصلاتی نظام ٹھپ ہو جاتے ہیں تو یہ سروس انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تاہم اس کے برعکس مکیش امبانی کی کمپنی ’جیو‘ اور ’بھارتیہ ایئرٹیل‘ بھی اپنے سیٹلائٹ انٹرنیٹ پروجیکٹس پر کام کر رہی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال کے آغاز میں جیو اور ایئرٹیل دونوں نے ہی اسٹار لنک کی مصنوعات کی تقسیم کے ابتدائی معاہدوں پر بھی دستخط کیے تھے۔
ایلون مسک کے اس تند و تیز بیان کے بعد بھارتی سیاست اور سوشل میڈیا پر ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا۔
اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے ایلون مسک کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کاروبار کے خلاف نہیں بلکہ اجارہ داری اور سرمایہ دارانہ گٹھ جوڑ کے خلاف ہیں اور وہ ملک میں تمام کمپنیوں کے لیے یکساں مواقع چاہتے ہیں۔
راہول گاندھی نے ایکس پر مسک کے خدشات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ”بھارت میں خوش آمدید ایلون، ابھی آپ کو دوسرے شخص کے بارے میں جاننا بھی باقی ہے۔“
اسی حوالے سے معروف بھارتی کامیڈین کُنال کامرا نے طنزیہ لکھا کہ ”امبانی فیملی نایاب جانوروں کے ساتھ ساتھ سرکاری اثاثوں کا بھی ذاتی کلیکشن رکھتی ہے“۔
اس تنقید کے بعد بھارتی حکومت اور وزارتِ مواصلات نے مسک کے تمام الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد اور لغو قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے ٹیلی کام جیوترادتیہ سندھیا نے وضاحت کی کہ بھارت کسی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دیتا اور اسٹار لنک، جیو سیٹ کام اور ون ویب تینوں کمپنیاں ایک ہی سیکیورٹی اور ریگولیٹری مرحلے پر موجود ہیں۔
بھارتی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسپیکٹرم کی الاٹمنٹ اور حتمی سیکیورٹی کلیئرنس کے بغیر کسی بھی غیر ملکی یا ملکی سیٹلائٹ کمپنی کو تجارتی خدمات شروع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، خاص طور پر اس خدشے کے پیشِ نظر کہ ماضی میں کچھ دور افتادہ علاقوں سے غیر قانونی اسٹار لنک آلات برآمد ہوئے تھے۔
دوسری جانب ریلائنس جیو کے چیئرمین اور مکیش امبانی کے بیٹے آکاش امبانی نے اس تنازع پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ ”ہم اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں اور اپنے بھارتی صارفین کو بہترین خدمات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔“
