کراچی کے عوام پیپلز پارٹی سے نفرت کرتے ہیں، حافظ نعیم الرحمان

لاہور (قدرت روزنامہ)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام پیپلز پارٹی سے نفرت کرتے ہیں اور پارٹی نے مبینہ دھاندلی کے ذریعے شہر میں اقتدار حاصل کیا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے انتخابی مینڈیٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کو چیلنج کیا کہ وہ کراچی کی قومی اسمبلی کی 7 نشستوں کے فارم 45 پیش کرکے اپنے مینڈیٹ کا ثبوت دیں۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد 32 افراد خرید کر جعلی میئر بنایا گیا۔ ان کے بقول کراچی کی قومی اسمبلی کی 7 نشستیں بھی پیپلز پارٹی نے دھاندلی کے ذریعے حاصل کیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سندھ میں وڈیرہ شاہی، مفادات اور سماجی اثرورسوخ کا نظام سیاسی اقتدار کو تقویت دیتا ہے، جبکہ کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں کے مسائل حل نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
حافظ نعیم الرحمان نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں دعویٰ کیا کہ اس کے بجٹ کا صرف 38 سے 40 فیصد حصہ مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے، جبکہ باقی رقم میں درمیانی افراد کے ذریعے مبینہ بدعنوانی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب خاندانوں کو محدود مالی امداد دینے کے بجائے تعلیم، روزگار اور غربت کے مستقل خاتمے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے حکومتی اخراجات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کی تزئین و آرائش، سرکاری گاڑیوں، مفت ایندھن، بجلی اور بیرون ملک دوروں پر بھاری اخراجات کیے جاتے ہیں، لیکن ان میں کمی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری اور معاشی پالیسیوں پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت کو عوام کو معاشی مشکلات سے نکالنے، غربت کم کرنے اور ملک کو مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں آگے لے جانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔
