بلاول بھٹو کا محمود خان اچکزئی کو عمران خان کے دیے گئے اختیارات استعمال کرنے کا مشورہ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے دیے گئے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے اپوزیشن اراکین کو پارلیمانی کمیٹیوں میں شرکت کی ہدایت کریں۔
جمعرات کو ایوان سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ طاقتور ہوگی تو ہم سب طاقتور ہوں گے، کیونکہ یہ وہ طاقت ہے جو ہمیں پاکستان کے عوام نے دی ہے۔
انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس ایوان کو غیر فعال دیکھنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ عوام کو اس سے کوئی فائدہ پہنچے، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے طنزیہ انداز میں اپوزیشن کو مبارکباد بھی دی۔
بلاول بھٹو نے کمیٹیوں کے بائیکاٹ کے فیصلے کو پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی ایک کڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنی پارٹی، عوام اور حلقوں کی نمائندگی کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے، لیکن وہ متعلقہ پلیٹ فارمز پر عوامی جذبات اور مسائل اجاگر کرنے سے گریزاں ہیں۔
انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت
پی پی پی چیئرمین نے انکشاف کیا کہ پارلیمنٹ نے پیپلز پارٹی کی تحریک پر انتخابی اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سے کہا کہ وہ اس کمیٹی کے لیے اپنا نمائندہ نامزد کر کے اسپیکر کے دفتر کو نام ارسال کریں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اپوزیشن نے انتخابی دھاندلی کو ہمیشہ اپنا بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے، لہٰذا اگر اپوزیشن چاہتی ہے کہ آئندہ عام انتخابات، بلدیاتی انتخابات یا ضمنی انتخابات سے قبل اس مسئلے کا حل نکالا جائے تو اسے کمیٹی کی کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا۔
انہوں نے اس عمل کو پارلیمنٹ کا وقار اور اختیار بحال کرنے کی جانب ایک لازمی قدم قرار دیا۔
موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے وزارتِ خارجہ، داخلہ اور دفاع کے وزرا سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان کو پاکستان کو درپیش سنگین چیلنجز سے باضابطہ طور پر آگاہ کریں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کو اور پورے خطے کو کیا ممکنہ خطرات لاحق ہیں، بالخصوص جب 3 اہم سمندری راستے بند ہو چکے ہیں۔
انہوں نے ایران کی جنگ کے پاکستان پر مرتب ہونے والے اثرات اور حکومت کی جانب سے حال ہی میں دستخط کیے گئے دفاعی معاہدوں پر بھی تفصیلی بریفنگ کا مطالبہ کیا تاکہ ایوان کا ہر رکن ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز، دہشتگردی اور مستقبل کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح باخبر رہے۔
اس تناظر میں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں کراچی میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کو ایک مثبت سیاسی پیشکش (آلیو برانچ) دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مثبت اور تعمیری رابطہ خیبرپختونخوا میں نافذ گورنر راج کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبائی حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے جان بوجھ کر لاتعلقی کا عذر پیش کرتے ہوئے کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جس پر اپوزیشن کی صفوں میں شدید ردعمل اور تنقید دیکھنے کو ملی تھی۔
