آئینی توازن کی بحالی اور تمام اداروں کا حدود میں رہ کر کام کرنا سیاسی استحکام کے لیے لازمی ہے، مولانا عبدالغفور حیدری

پارلیمنٹ کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے بغیر جمہوریت آگے نہیں بڑھ سکتی، مرکزی سیکرٹری جنرل جے یو آئی


قائد جمعیت نے ایوان میں جمہوریت کا بھرپور دفاع کیا، حکومتی نمائندے الزامات کے بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ غیر آئینی اقدامات کے باعث پارلیمنٹ کے اختیارات اور عدلیہ کی آزادی سلب ہو کر رہ گئی ہے قائد جمعیت نے پارلیمنٹ میں جس طرح جموریت کے دفاع کیلئے آواز بلند کی پورے ملک کی عوام ان کو خراج تحسین جبکہ حکومتی ارکان خاص کر وزیر دفاع خوجہ اپنی شرمندگی بچانے بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے دائرہ اختیار میں انتظامی مداخلت کے باعث ججوں کے استعفوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ملک میں جاری موجودہ سیاسی کشمکش، پارلیمانی اقدار کی پامالی اور عدلیہ و دیگر ریاستی امور میں مبینہ غیر آئینی مداخلت سے ریاست مزید سنگین بحرانوں میں دھنس جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے اقتدار کی خاطر غیر جمہوری اور غیر آئینی عمل کو سیاست میں مداخلت کے لیے راستہ فراہم کیا ہے۔ آئین کی روح کو سلب کیے جانے پر تمام سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کا کڑا امتحان ہے۔ اس وقت ریاست کا ڈھانچہ چلانے والے بنیادی ستون آئین، قانون، پارلیمنٹ اور جمہوریت عملی طور پر معطل ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئینی توازن کی حقیقی بحالی کے بغیر ملک میں جمہوری نظام آگے نہیں بڑھ سکتا، تمام ادارے اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کریں تبھی ملک میں سیاسی استحکام آ سکتا ہے۔گذشتہ ستر سالوں میں ملک کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا گزشتہ چار سالوں کے دوران قومی مقتدرہ اور حکمرانوں کی پالیسیوں سے پہنچا ہے، اور اس وقت ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی مکمل طور پر معطل نظر آتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert