مولانا فضل الرحمان سے بیرسٹر گوہر خان کی قیادت میں وفد کی ملاقات، پی ٹی آئی کی مولانا کی قومی اسمبلی میں تقریر کی بھرپور تائید

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں مولانا کی تقریر کی بھرپور تائید کی گئی۔ ایکس پر اسد قیصر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان حسین احمد یوسفزئی پر مشتمل وفد نے امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
ملاقات میں مہمان وفد نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن کی قومی اسمبلی میں تقریر کی بھرپور تائید کرتے ہوئے حکومتی وزراء کی جانب سے امیر جمعیت علمائے اسلام کی کردار کشی کی شدید مذمت کی۔
وفد نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی حملوں اور کردار کشی میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے، اور سیاسی قیادت کے احترام کو ہر صورت ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے۔
ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں کی ناحق قید، انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھنے اور اہلِ خانہ و وکلاء کو ان تک رسائی نہ دینے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر اس طرزِ عمل کے نتیجے میں کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
وزیراعلی سہیل آفریدی ، سپیکر بابر سلیم سواتی ، صوبائی صدر جنید اکبر خان کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا گیا۔
یاد رہے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور ایمرجنسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ملک کو خون خرابے کی طرف نہیں لے جانا چاہیئے، ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کیلئے تیار ہیں مگر تاریخ میں مرنے کیلئے تیار نہیں،ہم نے آپ کی رائے سے اختلاف کیا تو آپ ہمارے خلاف ہوگئے،ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا، خیبرپختونخوا میں معدنیات کے معاملے پر دہشتگردی کے الزام کے پیچھے چھپا جا رہا ہے. ان خیالات کااظہار انہوں نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی اور خراب حالات کی بنیاد پر خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کو ہٹا کر وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، تو پھر بلوچستان میں بھی حالات اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں، لہذا اگر یہی اصول ہے تو وہاں بھی گورنر راج لگایا جانا چاہیئے، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے الزام کے پیچھے اصل محرک دراصل وہاں موجود معدنیات کے ذخائر پر قبضے کی کوششیں ہیں، اب تو معدنیات کی یہ باتیں خود گورنر کی جانب سے بھی کی جا رہی ہیں. حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے انکشاف کیا کہ میں نے ملک کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے حکومت سے بات چیت کی تھی جس کے دوران وزیراعظم نے اپوزیشن سے لانگ مارچ موخر کرنے کا کہا تھا، اپوزیشن نے اس پر مثبت جواب دیا اور ان کے مطالبات میں عمران خان سے ملاقات اور ان کا علاج کرانا شامل تھا۔
