25 ممالک کے ساتھ 6 ماہ میں ویزا فری انٹری کے معاملات طے ہو جائیں گے، محسن نقوی
گرین پاسپورٹ کے بارے میں مثبت پیشرفت ہو رہی ہے اور اگلے 6 ماہ کے دوران اس کی بین الاقوامی رینکنگ میں مزید بہتری دیکھنے کو ملے گی، وفاقی وزیر داخلہ کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران 25 ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری اور سفری سہولیات سے متعلق معاملات حل ہو جائیں گے، جبکہ گرین پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں بھی بہتری متوقع ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے بلیو پاسپورٹس کی تعداد، ان کی منسوخی، گرین پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی اور مختلف ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری کے معاہدوں سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ بلیو پاسپورٹس سے متعلق حتمی فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔ ان کے مطابق غیر ملکی ممالک ویزا فری انٹری کے معاہدوں سے قبل پاکستان میں بلیو پاسپورٹس کی مجموعی تعداد دریافت کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ اگر ان کی تعداد 25 سے 30 ہزار سے بڑھ گئی تو معاہدہ ختم یا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
محسن نقوی کے مطابق اس وقت ملک میں بلیو پاسپورٹس کی تعداد تقریباً 70 ہزار ہے، جس کے باعث کئی ممالک ویزا فری انٹری دینے پر آمادہ نہیں۔
اسی صورتحال کے پیش نظر 22 ہزار بلیو پاسپورٹس منسوخ کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید بلیو پاسپورٹس کے اجرا پر فی الحال پابندی عائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ کو ان کی آئینی مدت کے مطابق ہی بلیو پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ کینیا، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی کے ساتھ بلیو پاسپورٹس سے متعلق معاہدے حتمی مراحل میں ہیں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ویزا فری انٹری کا عمل مکمل ہو چکا ہے، جبکہ قطر کے ساتھ بھی جلد معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ بہتر بنانے کے لیے بھی پیشرفت جاری ہے اور آئندہ چھ ماہ میں اس حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ملک کو جعل سازی اور دھوکہ دہی سے محفوظ رکھنے کے لیے مکمل طور پر ای پاسپورٹ نظام کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کی ماحولیاتی بہتری کے حوالے سے محسن نقوی نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں موزوں درختوں کی نشاندہی کے لیے بوٹینیکل گارڈن کے ماہرین کو پاکستان بلا کر سائنسی مطالعہ کروایا جائے گا، جس کی روشنی میں شجرکاری کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔
