بجلی کے کھمبوں کے درمیان سڑک بنانا ہماری منصوبہ بندی تھی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی حیران کن وضاحت

حیسکو کو رقم دینے کے باوجود کھمبے نہیں ہٹائے گئے، سوچا سڑک بنا کر ٹریفک چلا دیتے ہیں تاکہ دباؤ بڑھے، میڈیا پر معاملہ آنے کے بعد ایک ہی دن میں 25 کھمبے ہٹا دیے گئے، وزیراعلیٰ سندھ


کراچی(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں سڑک کے عین درمیان بجلی کے کھمبے موجود ہونے کے باوجود اس کی تعمیر کو باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے جان بوجھ کر سڑک بنائی تاکہ متعلقہ وفاقی ادارے پر کھمبے ہٹانے کیلئے دباؤ ڈالا جاسکے۔
حیدرآباد میں سڑک کے درمیان بجلی کے کھمبوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور شدید عوامی تنقید کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس معاملے کی وضاحت پیش کی۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق مراد علی شاہ نے کہا کہ سڑک کی تعمیر کیلئے چیف سیکریٹری سندھ نے کنٹونمنٹ بورڈ سے زمین کا حصول ممکن بنایا، جبکہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کو بجلی کے کھمبے منتقل کرنے کیلئے رقم بھی ادا کی گئی، لیکن اس کے باوجود کھمبے نہیں ہٹائے گئے۔
سوچا پہلے سڑک بنا دیتے ہیں، پھر حیسکو پر دباؤ آئے گا، مراد علی شاہ
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ متعلقہ ادارے کی جانب سے کھمبوں کی منتقلی میں تاخیر کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ پہلے سڑک تعمیر کردی جائے تاکہ معاملہ سامنے آنے پر حیسکو پر دباؤ بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سڑک بنا کر ٹریفک کی آمدورفت شروع کردی، جس کے بعد لوگوں نے سوال اٹھانا شروع کردیا کہ نئی تعمیر ہونے والی سڑک کے درمیان بجلی کے کھمبے کیوں موجود ہیں۔
مراد علی شاہ کے مطابق میڈیا اور سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آنے کے بعد کھمبے ہٹانے کے کام میں تیزی آئی۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک ہی دن میں تقریباً 100 میں سے 25 بجلی کے کھمبے ہٹا دیے گئے۔
وزیراعلیٰ نے اس حکمت عملی کو ایک بڑے منصوبے کا حصہ قرار دیتے ہوئے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ ادا کیا۔
وفاقی ادارے ہماری بات نہیں سنتے، میڈیا کی بات سن لیتے ہیں
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کھمبوں کی منتقلی کیلئے متعلقہ وفاقی ادارے سے رابطے کیے، تاہم مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔
ان کے مطابق میڈیا میں معاملہ آنے کے بعد ادارے نے تیزی سے کام شروع کردیا، جس سے حکومت کی حکمت عملی مؤثر ثابت ہوئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حیدرآباد میں اس سڑک کی تعمیر مکمل ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں بڑی سہولت ملے گی اور سفر کا وقت بھی کم ہوگا۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ باقی کھمبے بھی جلد منتقل ہوجائیں گے اور سڑک مکمل طور پر قابل استعمال بن جائے گی۔
حیسکو نے وزیراعلیٰ سندھ کی وضاحت پر اعتراض کردیا
دوسری جانب حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے کھمبے ہٹائے بغیر سڑک تعمیر کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ترجمان صادق کُبر نے کہا کہ معمول کے طریقہ کار کے تحت کسی بھی سڑک کی تعمیر سے پہلے بجلی کے کھمبوں اور دیگر تنصیبات کی منتقلی مکمل کی جاتی ہے، جس کے بعد سڑک کی کارپٹنگ کا مرحلہ آتا ہے۔
ترجمان کے مطابق متعلقہ محکموں کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا، تاہم حیسکو کو یہ پیشگی اطلاع نہیں تھی کہ کھمبے موجود ہونے کے باوجود سڑک کی تعمیر آگے بڑھائی جائے گی۔
حیسکو نے اس فیصلے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے معمول کے تعمیراتی طریقہ کار سے مختلف قرار دیا۔
حیدرآباد کی سڑک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی
چند روز قبل حیدرآباد میں علمدار چوک سے اولڈ نیشنل ہائی وے کی جانب تعمیر ہونے والی سڑک کی ویڈیوز سامنے آئی تھیں، جن میں سڑک کے درمیان بجلی کے کھمبے موجود دکھائی دے رہے تھے۔
ویڈیوز میں گاڑیاں ان کھمبوں کے اردگرد سے گزرتی نظر آئیں، جس پر شہریوں نے منصوبے کی تیاری، ٹریفک کی حفاظت اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔
ابتدائی طور پر بلدیاتی حکام نے وضاحت کی تھی کہ منصوبہ ابھی زیر تعمیر ہے اور کھمبوں کی منتقلی کا کام مکمل ہونا باقی ہے۔
تاہم وزیراعلیٰ سندھ کے تازہ بیان کے بعد معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے، کیونکہ انہوں نے کھمبے ہٹائے بغیر سڑک تعمیر کرنے کو متعلقہ ادارے پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔
شہریوں کی حفاظت اور منصوبہ بندی پر سوالات برقرار
وزیراعلیٰ سندھ کی وضاحت کے باوجود یہ سوال برقرار ہے کہ سڑک کے درمیان بجلی کے کھمبے موجود ہونے کے دوران ٹریفک کی آمدورفت کی اجازت دینا کس حد تک محفوظ تھا۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں کے درمیان انتظامی اختلافات کا حل شہریوں کو ممکنہ خطرات سے دوچار کرکے نہیں نکالا جانا چاہیے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ کا مؤقف ہے کہ اس حکمت عملی کے نتیجے میں کھمبوں کی منتقلی کا عمل تیز ہوا اور منصوبے کی تکمیل سے حیدرآباد کے شہریوں کو فائدہ پہنچے گا۔
تاحال اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ تمام باقی ماندہ کھمبے کب تک منتقل کیے جائیں گے اور سڑک کو مکمل طور پر محفوظ قرار دے کر باقاعدہ طور پر کب کھولا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert