چوہدری نثار کی ن لیگ میں شمولیت سے متعلق سابق وزیراعظم کا اہم بیان

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار رجوع کریں گے تو ان سے متعلق پارٹی فیصلہ کرے گی تاہم اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی سیاست بہتر ہے تو وہ ان سے رجوع کر سکتے ہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اختیار ہے کہ وہ وزیر کا فیصلہ نہ مانے، ہر وزیر کی ہر بات نہیں مانی جاتی۔
شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ ن لیگ واحد جماعت جو آئین کی بات کر رہی ہے،باقی جماعتیں پرانی باتیں کر رہی ہیں کہ ڈیل کر لو۔شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ ہم نے نیک نیتی سے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر تمام جماعتوں کو اکٹھا کیا جب لانگ مارچ کا وقت آیا تو پیپلز پارٹی نے بہانے سے کام لیا۔

پیپلز پارٹی نے اعتماد توڑا،دروازے بند کیے تاہم اب یہ اعتماد بحال کرے اور شامل ہو جائے۔

واضح رہے کہ چوہدری نثار نے طویل عرصے بعد انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ سے مستعفی ہونے کی وجہ عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں کو قرار دیا، انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ سے میرے استعفے کی وجہ عمران خان تھے۔ رینجرز ، ایف سی اور پولیس کو حکم دیا تھا کہ کارروائی کا حکم دے دیا تھا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ عمران خان اور طاہر القادری آبپارہ سے ایک انچ بھی آگے آئیں، اگر دھرنے آبپارہ سے آگے آئے تو ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
لیکن سابق وزیراعظم نوازشریف نے عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنوں کو ریڈ زون میں آنے کی اجازت دے دی۔ نوازشریف نے وزیرداخلہ کی مرضی کیخلاف دھرنوں کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت دی، اس پر میں وزارت داخلہ سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے جرگہ پروگرام میں ہی سلیم صافی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بطور وزیرداخلہ میں نے افغان طالبان کے نائب امیر ملا عبدالغنی برادر کو افغان حکومت کے حوالے کرنے کی سخت مخالفت کی تھی، تاہم سابق وزیر اعظم نوازشریف کا اس حوالے سے کیا مؤقف تھا اس کا جواب نواز شریف خود بہتر انداز میں دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں حکومت پاکستان کی طرف ملاعبدالغنی برادر کے ساتھ نہ صرف اچھا سلوک کرنے کا حامی تھا، بلکہ اس بات کا بھی حامی تھا کہ ہمیں ملا برادر کو اپنا ہم نوا بنانا چاہیے۔

WhatsApp
Get Alert