پاکستان کو بچانے کیلئے قومی کانفرنس بلائی جائے، ہم ایک دوسرے کو بخش کر نئے پاکستان کی تعمیر کریں: محمود خان اچکزئی


پشاور ( ڈیلی قدرت ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اوررکن قومی اسمبلی محمود ؒخان اچکزئی نے پشاور میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمہ جہت بحرانوانوں میں مبتلا ہیں بحران بڑے اور ہم چھوٹے لوگ ہیں۔ پاکستان کے بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ قومی کانفرنس بلائی جائے دو تین دن تک جس میں ججز، جرنیل ، سیاستدان ، صحافی ، دانشور، سول سوسائٹی اور عالم زندگی کے تمام شعبوں کے لوگ شامل ہوںمل بیٹھ کر بات کریں ایک دوسرے کو بخش دیں اور اس ملک کو بچانے کے لیے اجتماعی دانش سے ایک نئے پاکستان کی تعمیر کریں۔ ہمارا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں گالیاں لوگ دیتے ہیں اس کی پرواہ نہیں۔ ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جہاں ایک انسان کا دوسرے انسان پر ظلم وجبر نہ ہو جہاں آئین بالادست ہو ، ایک فرقے کا دوسرے فرقے سے جھگڑا نہ ہو ۔ عوام کی منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو ۔ وہاں داخلی وخارجی سیاسی فیصلے بنے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سٹیٹ کیا ہے ؟ مجلس شوریٰ ، صوبائی اسمبلیاں ،صوبائی اسمبلی کی حکومت اور وہ ادارے جوٹیکس لگاتے ہیں یہ سٹیٹ ہے آج بھی عمران خان کے پاس سب سے زیادہ سٹیٹ کی طاقت ہے ایک پورا صوبہ اس کی حکومت پارلیمنٹ میں 70ووٹ اور وہ چوری کردیئے گئے ہیں وہ تو اور زیادہ بنیں گے ۔ یہاں کے ساتھیوں نے کہا کہ ڈی چوک ۔ یا د رکھیں لوگ کہہ رہے ہیں گورنر راج لگائینگے ایسا ہوا تو صوبے اور پشاور کے ہر چوک کو Dچوک بنائینگے ۔ لاکھوں انسانوں نے نکلنا ہوگا انقلاب لائینگے۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ گالیوں سے خفا نہیں ہونا کوئی ہمیں گالیاں نہ دیں ورنہ پشتون گالیوں میں سب کو مات دینگے، لوگ ہمیں غصہ دلانے کے لیے گالی دے رہے ہیں ہمیں اپنے مقاصد سے پیچھے ہٹانے کے لیے گالیاں دے رہے ہیں ۔ غیر جمہوری قوتیں اتنی مجبور ہوئی ہیں کہ کل ایک آدمی وردی میں گالیاں دے رہا تھا ۔ جمہوری قوتیں تحریک تحفظ آئین پاکستان اور عمران خان ہیں ، پاکستان کا آئین خود کہتا ہے کہ جو کوئی آئین کو نہیں مانتا آئین کو معطل کرتا ہے ، چھیڑتا ہے ، پھاڑتاہے یہ سیکورٹی رسک ہے۔ شکر ہیں ہم سیکورٹی رسک نہیں ۔ آج یہ لوگ لگے ہوئے ہیں جنگی جنون میں مبتلا ہیں جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان ، افغانستان کے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ کو ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ محترم فیلڈ مارشل صاحب قرآن شریف کے حافظ ہیں اُن سے پوچھ لیں کہ جب موسیٰ علیہ اسلام کو کو ہ طور پر پہنچے تو اللہ پاک نے ان سے فرمایا کہ آپ میرے پیغمبر ہیں ۔ فرعون پاگل ہوچکاہے جائو اُنہیں میرا پیغام دو ۔ حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے کہا کہ میری زبان صحیح نہیں لہٰذا میرے بھائی ہارون کو بھی لے جانے کی اجازت دے۔ اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی جب وہ روانہ ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کے اے موسیٰ آپ اور آپ کے بھائی ہارون فرعون کے ساتھ ادب سے پیش آئیں اور ادب سے یہ پیغام پہنچا دیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو ان لوگوں سے بھی اخلاق سے پیش آنے کا حکم دیتے ہیں جو خدائی کا دعوی کرتے تھے اور آج یہ پاگل ہمیں گالیوں کے راستے دکھا رہے ہیں ۔ ہم اللہ تعالیٰ کے وہ سپاہی ہیں جو کسی کو گالی نہیں دیتے کسی بُرا بھلا نہیں کہینگے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دنیا اب جنگیں چھوڑ چکی ہیں وہ علم اور سائنس کے میدان میں ترقی کرتے جارہے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم ، دوسری جنگ عظیم ، جرمنی ، جاپان کی ہلاکتوں کے بعد لوگوں نے آسمان کا رُخ کیا ۔ سائنس وٹیکنالوجی میں بڑھے ۔ لوگوں نے سائنس میں ترقی کرنے کا ٹھان لیا ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ واہگہ باڈر پر کوئی فورسز نہیں وہاں دھڑا دھڑ کاروبار جاری ہے جبکہ ہندوستان کو یہ لوگ دشمنی بھی کہتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج ہمیں وہ لوگ اسلام بتارہے ہیں جنہوں نے ایک ووٹ ایک ٹک مار ک لگانے کے لیے کرورڑوں روپے رشوت دیتے رہے ۔ آخر یہ پیسہ آپ کے پاس کہاں سے آیا ؟ غریب لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں روزانہ اجرت نہیں مل رہی ۔ تم ان کو آدمی سمجھتے ہو جو انسانوں کی قیمت لگاتا ہے چند روپروں کے عیوض لوگوں کی رائے لیتا ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان صحیح آدمی نہیں تا تو پھر آپ نے کیوں اُنہیں وزیر اعظم بنایا ؟ آج جب وہ ضمیر کے قیدی کی حیثیت سے جمہوری قوتوں کی نمائندہ کی حیثیت سے آپ کے جبر کے سامنے ڈٹ گئے اور لاکھوں انسان اس کے ساتھی بنے ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے تو زبردستی اُنہیں پیچھے ہٹارہے ہو یہ ناممکن ہے کوئی بھی اب اُنہیں پیچھے نہیں ہٹا سکتا ۔ منظم تنظیم کے ذریعے نجات ممکن ہے ۔ پشتونخوا وطن میں آباد تمام اقوام ہندکو ، گلگتی ، سرائیکی یا جو کبھی زبان بولتا ہو جس کا گھر اور گور پشتونخوا وطن میں ہو وہ سب ہمارے بھائی ہیں ان سب کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔ یہاں تمام بات صرف پشتونوں کے لیے ہے کیونکہ ہماری سرزمین ہمارا وطن دنیا جہاں کی نعمتوں سے مالا مال ہے ۔ آج لوگ ہمیں پاکستانی نہیں سمجھ رہے ۔ پانیوں ، جنگلات ، مائنز اینڈ منرلز پر قبضہ کیا گیا ۔ پشتونوں کو پوری دنیا جہاں کا مزدور بنایا گیا اس کے باوجود بھی پشتونوں نے پاکستان مردہ آباد کبھی نہیں کہا ہے ۔ آج 70لاکھ پاکستانی دوبئی اور دوسرے ممالک میں مزدوری کررہے ہیں ۔ آج سب لوگ اپنے وطن کے وسائل سے باخبر ہیں وہ سب کچھ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنے وسائل ، اپنے عوام کی خدمت میں لانے چاہیے کسی سے خیرات لینے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔ محمود خان اچکزئی نے آخر میں پشتونخوا وطن زندہ آباد ، انقلاب زندہ آباد ، تحریک تحفظ آئین پاکستان زندہ آباد، تحریک انصاف زندہ آباد کے نعرے لگائے۔

WhatsApp
Get Alert