بلوچستان میں جدید زراعت کا آغاز، 10 اضلاع میں ہائیڈروپونکس منصوبہ منظور، گوادر کے ڈیمز صرف پینے کے پانی کیلئے مختص: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے اہم فیصلے


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پی ایس ڈی پی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے زرعی مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں بلوچستان میں ہائیڈروپونکس (بغیر مٹی کے کاشتکاری) کی سہولیات کے قیام اور باغبانی کے فروغ کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ ہائیڈروپونکس منصوبہ ابتدائی طور پر صوبے کے 10 اضلاع میں شروع کیا جائے گا اور اس کی کامیابی کی بنیاد پر مرحلہ وار دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کم پانی میں زیادہ پیداوار جدید زراعت کی بنیادی ضرورت ہے اور زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائیڈروپونکس منصوبہ بلوچستان کے کسانوں کے لیے نئی معاشی راہیں کھولے گا اور آبپاشی و ڈیمز کے منصوبے زرعی مستقبل کے ضامن ہیں۔


اجلاس میں آبپاشی کے جاری منصوبوں پر بریفنگ کے دوران وزیر اعلیٰ نے گوادر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح ہدایت کی کہ گوادر میں گزشتہ دو سال سے زائد عرصہ سے بارشیں نہ ہونے کے باعث قلت آب کے سنگین مسائل ہیں، لہٰذا وہاں زیر تعمیر ڈیمز کو صرف اور صرف آبنوشی (پینے کے پانی) کے مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جائے گا۔ انہوں نے گوادر میں ڈیمز پر کام کی رفتار تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزراء میر شعیب نوشیروانی، نور محمد دمڑ، انجینئر زمرک خان، حاجی علی مدد جتک، میر عبدالمجید بادینی نے شرکت کی جبکہ میر صادق عمرانی اور میر علی حسن زہری ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

WhatsApp
Get Alert