فاٹا اور بلوچستان کے طلباء کے میڈیکل کوٹے میں کمی تعلیم دشمنی ہے، 666 نشستوں کے وعدے کے برعکس سیٹیں 121 کر دی گئیں، پشتونخواملی عوامی پارٹی

(ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں 2018 میں فاٹا اور بلوچستان (پشتون بلوچ دو قومی صوبے) کے طلباء وطالبات کے لیے مختص سکالر شپ کوٹہ کو مکمل طور پر بحال نہ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذکورہ تعلیم دشمن فیصلے سے سینکڑوں باصلاحیت طلباء تعلیم کے حصول سے محروم ہو جائیں گے؛ بیان میں کہا گیا ہے کہ 2018 میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور پی ایم ڈی سی میں 333 میڈیکل نشستیں فاٹا اور بلوچستان (پشتون بلوچ دو قومی صوبہ) کے لیے مختص کی گئی تھیں اور وعدہ کیا گیا تھا کہ 5 سال کے بعد ان میڈیکل سیٹوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں 666 کر دیا جائے گا، لیکن حکومت نے ان میڈیکل سیٹوں میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی بجائے میڈیکل سیٹوں کو 333 سے کم کر کے 121 کر دیا ہے جس سے فاٹا اور بلوچستان کے طلباء میں احساسِ محرومی میں اضافہ ہوا ہے؛ بیان میں واضح کیا گیا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی فاٹا اور بلوچستان کے طلباء کے لیے مختص میڈیکل سیٹوں کی بحالی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی اور حکومت کو مجبور کرے گی کہ وہ تمام میڈیکل سیٹیں بحال کرے؛ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پسماندہ علاقوں کے طلباء کو خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں اور میڈیکل نشستیں دوبارہ بحال کر کے طلباء میں موجود بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔
