کوئٹہ میں ڈاکوؤں کا راج، پولیس اور جرائم پیشہ عناصر کا مبینہ گٹھ جوڑ بے نقاب، ڈاکو گروپ کے سر غنہ شالکوٹ تھانے کے ایس ایچ او کے بھائی کی گرفتاری پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ، پشتونخواملی عوامی پارٹی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت نیوز) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے جاری کردہ بیان میں کوئٹہ شہر میں بڑھتی ہوئی چوری، ڈکیتی، راہزنی اور سٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کو انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تحصیل سٹی، تحصیل صدر، تحصیل سریاب اور تحصیل کچلاغ کے مختلف علاقوں میں متعلقہ پولیس تھانوں کی غیر ذمہ دارانہ کارکردگی نے شہریوں کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں جان و مال کے سنگین مسئلے سے دوچار کر دیا ہے؛ بیان میں سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر اور پولیس گٹھ جوڑ کا مقصد عوام کو لوٹنا ہے، چور اور ڈاکو اب شہریوں پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کرنے اور جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے، شہر کے تمام کیمروں اور سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں ان ڈاکوؤں کو آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی؛ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر خبر آئی کہ ڈاکوؤں کے گروہ کا ایک سرغنہ گرفتار کیا گیا جو خود شالکوٹ پولیس تھانہ کے ایس ایچ او کا بھائی ہے جسے راہِ فرار دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن آئی جی پولیس سمیت کسی ذمہ دار نے اس کا نوٹس نہیں لیا جو کہ انتہائی افسوسناک ہے، اس سے پہلے بھی مختلف جرائم میں پولیس اہلکار شامل رہے ہیں؛ گزشتہ روز بھی زرغون آباد میں ایک خاتون کو ڈکیتی کے دوران قتل کیا گیا جبکہ روزانہ درجنوں موٹر سائیکل، نقدی اور موبائل چھیننے کی وارداتیں ہو رہی ہیں جس کی پارٹی شدید مذمت کرتی ہے؛ بیان میں واضح کیا گیا کہ فائرنگ، قتل اور لوٹ مار کے مسلسل واقعات نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے اور عوام شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں، جرائم کی روک تھام اور قانون کی عملداری پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن کوئٹہ کے تھانوں کی غفلت اور مجرمانہ سرگردانی قابلِ افسوس ہے؛ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پولیس کی کارکردگی کو موثر اور جوابدہ بنایا جائے تاکہ شہری سکون کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔
