پشتونخواملی عوامی پارٹی کی پشین میں علاقائی کانفرنس، نئی کابینہ کا انتخاب

پشین (قدرت روزنامہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع پشین تحصیل حرمزئی کے علاقائی یونٹ انزرگئی کی کانفرنس تحصیل صدر مناف خان ایڈووکیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔
کانفرنس سے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، مرکزی سیکرٹری عبدالحق ابدال، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان، سندھ کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات سرباز عبدالرب درانی اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
کانفرنس میں نئی کابینہ کا انتخاب عمل میں لایا گیا، جس کے مطابق رحمت اللہ علاقائی سیکرٹری، شمس اللہ سینئر معاون سیکرٹری، رمضان خان اطلاعات سیکرٹری جبکہ عنایت اللہ، قاسم خان، شاغاسی، واحد آکا، حبیب اللہ، عبدالباری، کونسلر غفار، حسام الدین، سرور خان، محمد حسن، ولی محمد طوفان، محی الدین، شفیع اور محمد نذیر معاونین منتخب ہوئے۔ بعد ازاں صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان نے نومنتخب کابینہ سے حلف لیا۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کی قیادت میں پشتونوں اور جمہوری قوتوں کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا گیا ہے اور پارٹی کی سیاست عوامی امنگوں کی ترجمان ہے۔
انہوں نے موجودہ حکومت کو غیر نمائندہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبے کے وسائل اور زمینوں کی تقسیم میں ناانصافی کی جا رہی ہے اور عوام کو اپنے وسائل پر حق دیا جانا چاہیے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ملک ایک فیڈریشن ہے اور تمام قومیتوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق ملنے چاہئیں، جبکہ پشتونوں کو اپنی زبان اور وسائل سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ کارکن گھر گھر جا کر عوام میں شعور بیدار کریں اور قومی تحریک کو مضبوط بنائیں تاکہ پشتون عوام کو درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مقررین نے خلیجی خطے میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تیل کے وسائل پر متعلقہ ممالک کے عوام کا حق ہے اور خطے میں امن کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔
مقررین نے پاکستان اور افغانستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف نہیں، تاہم سیاست میں مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا اور جمہوری عمل میں رکاوٹیں ملک کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
