پاکستان کا ترقیاتی بجٹ ہل گیا! اربوں روپے اچانک غائب؛ اصل وجہ کیا ہے؟


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)حکومتی مالیاتی پالیسی میں ایک بار پھر اہم تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں پیٹرول سبسڈی کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنے کی غرض سے ترقیاتی اخراجات میں مزید کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا ہے جب مالی دباؤ اور سبسڈی کی ضروریات نے بجٹ ترجیحات کو نئے سرے سے ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں مزید 63 ارب روپے کی کٹوتی کی منظوری دی ہے جس کے بعد مجموعی کمی بڑھ کر 163 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس تازہ رد و بدل کے بعد رواں مالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ کا حجم کم ہو کر 837 ارب روپے رہ گیا ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی ترقیاتی اخراجات میں 100 ارب روپے کی کمی کی گئی تھی جس کا مقصد پیٹرول سبسڈی سے متعلق مالی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ یوں یہ سلسلہ ایک مرحلہ وار ایڈجسٹمنٹ کے طور پر جاری ہے۔
کٹوتیوں کا زیادہ اثر صوبائی ترقیاتی پروگراموں اور خصوصی علاقوں پر پڑا ہے جہاں اب تک مجموعی طور پر تقریباً 20 فیصد تک بجٹ میں کمی کی جا چکی ہے۔ اسی طرح آبی وسائل کے منصوبوں اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ترقیاتی فنڈز میں بھی 17 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ رواں مالی سال کے آغاز پر وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے تھے تاہم موجودہ کٹوتیوں کے بعد اس کا حجم نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے۔
کٹوتیوں کا زیادہ اثر صوبائی ترقیاتی پروگراموں اور خصوصی علاقوں پر پڑا ہے جہاں اب تک مجموعی طور پر تقریباً 20 فیصد تک بجٹ میں کمی کی جا چکی ہے۔ اسی طرح آبی وسائل کے منصوبوں اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ترقیاتی فنڈز میں بھی 17 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ رواں مالی سال کے آغاز پر وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے تھے تاہم موجودہ کٹوتیوں کے بعد اس کا حجم نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے۔

WhatsApp
Get Alert