حکومت بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کیلئے تیار، کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے بل کتنے بڑھ جائینگے؟

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی پر دی جانے والی غیر ہدفی سبسڈیز مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔ اس فیصلے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کم بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے بلوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
وزارتِ توانائی ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق آئندہ تمام صارفین سے بجلی کی مکمل قیمت وصول کی جائے گی، جبکہ صرف وہی کم آمدن والے خاندان رعایت حاصل کر سکیں گے جو بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ ہوں گے۔ بتایا گیا ہے کہ تقریباً 500 ارب روپے کی سبسڈی بی آئی ایس پی پروگرام کے تحت منتقل کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین اس نئی پالیسی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے افراد بھی نگرانی میں آئیں گے جو ایک سے زیادہ میٹرز کے ذریعے کم نرخوں پر بجلی حاصل کرتے رہے ہیں۔
حکومتی منصوبے کے تحت جنوری 2027 سے سبسڈی کی فراہمی صرف بی آئی ایس پی پلیٹ فارم کے ذریعے کی جائے گی۔ پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد بڑھ کر تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ متعدد گھروں میں دو یا تین میٹرز کے استعمال کو اس اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پاور ڈویژن نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ بجلی کے بلوں میں دی جانے والی سبسڈی کی تفصیلات واضح طور پر درج کی جائیں گی۔ آئندہ صارفین کو اصل بجلی قیمت کے ساتھ یہ بھی بتایا جائے گا کہ حکومت کی جانب سے کتنی رعایت دی گئی ہے۔
پاور ڈویژن کے حکام کے مطابق موجودہ سبسڈی نظام کو ختم کرکے ایک نیا طریقہ متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔ حکومت اگست تک اس نئے نظام کی آزمائش کرے گی، جبکہ بجلی صارفین کا ریکارڈ بی آئی ایس پی کے ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا۔
