پاکستانی کرکٹر حسن علی پر دہلی میں تشدد! تہلکہ خیز ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل، جانیں حقیقت

لاہور(قدرت روزنامہ)سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو نے پاکستانی کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی کو بھارت کے شہر دہلی میں ٹرین کے سفر کے دوران مبینہ طور پر بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔

وائرل ویڈیو کے ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حسن علی جو اپنے سسرال میں اہلِ خانہ سے ملاقات کے لیے بھارت گئے ہوئے ہیں انہیں دورانِ سفر ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تاہم ویڈیو کی حقیقت پر اب سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ واقعہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ایک افسوسناک اور قابل مذمت حرکت ہے۔

اس وائرل ویڈیو کی حقیقت پر سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستانی ٹی وی اینکر کرن ناز نے اس دعوے پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویڈیو میں موجود شخص کسی بھی زاویے سے حسن علی دکھائی نہیں دے رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ پس منظر میں آنے والی آوازوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر خواتین کے کمپارٹمنٹ میں کوئی شخص داخل ہوا تھا جس پر پولیس کارروائی کر رہی تھی۔

کرن ناز نے مزید کہا کہ حسن علی پاکستان کے معروف کرکٹر ہیں، وہ کوئی عام شخص نہیں جبکہ ان کی اہلیہ بھی ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس نوعیت کی ٹرین میں سفر کیوں کریں گے۔

اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے جبکہ وائرل ویڈیو کی تصدیق بھی سامنے نہیں آ سکی۔

واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی نے بھارتی شہری سامعیہ آرزو سے شادی کی تھی۔ دونوں کا نکاح دبئی میں ہوا تھا جس میں اہل خانہ، دوستوں کے علاوہ قومی کرکٹر شاداب خان نے بھی شرکت کی تھی۔

حسن علی کی اہلیہ سامعیہ آرزو شادی سے قبل ایئر ہوسٹس کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ وہ 15 ستمبر 1995 کو بھارتی پنجاب کے شہر ہریانہ کے علاقے فرید آباد میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ایروناٹیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، جس کے بعد ملازمت کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات منتقل ہوئیں جہاں ان کی ملاقات حسن علی سے ہوئی۔

فی الحال وائرل ویڈیو سے متعلق اصل حقائق سامنے آنا باقی ہیں اور حتمی صورتحال تصدیق شدہ معلومات کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

WhatsApp
Get Alert