41 سال بعد سسئی بھٹو کی پاکستان واپسی، بھٹو خاندان میں پرانے تنازعات کا دفتر پھر کھل گئی

سکھر(قدرت روزنامہ)شہید ذو الفقار علی بھٹو کے صاحبزادے شہید شاہنواز بھٹو کی 41ویں برسی کے موقع پر ان کی صاحبزادی سسئی بھٹو پاکستان پہنچ گئیں۔ 44 سالہ سسئی بھٹو، جو مستقل طور پر امریکہ میں اپنی والدہ ریحانہ بھٹو کے ساتھ رہتی ہیں، اس مرتبہ خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کی مہمان بن کر آئی ہیں۔
خاندانی روابط
سسئی بھٹو شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو کی خالہ زاد بہن بھی ہیں۔ دونوں کے والد (میر مرتضیٰ اور شاہنواز بھٹو) بھائی تھے جبکہ ان کی مائیں (فوزیہ اور ریحانہ) سگی بہنیں ہیں۔ اس رشتے کی وجہ سے فاطمہ اور سسئی نہ صرف چچا زاد بلکہ خالہ زاد بہنیں بھی ہیں۔
تاریخی پس منظر
جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا دور میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد دونوں بھائی میر مرتضیٰ اور شاہنواز بھٹو جلاوطن ہو گئے تھے۔ 1980 میں انہوں نے ’پاکستان لبریشن آرمی‘ قائم کی، جس کا نام بعد میں الذوالفقار رکھا گیا۔ میر مرتضیٰ اس کے سربراہ جبکہ شاہنواز آپریشنل چیف تھے۔
کابل میں دونوں بھائیوں نے افغان وزارت خارجہ کے افسر فصیح الدین کی دو بیٹیوں فوزیہ اور ریحانہ سے شادیاں کیں۔
29 مئی 1982 کو فوزیہ کے ہاں فاطمہ بھٹو پیدا ہوئیں۔
24 اگست 1982 کو ریحانہ کے ہاں سسئی بھٹو پیدا ہوئیں۔
شاہنواز بھٹو کی ہلاکت
18 جولائی 1985 کو فرانس کے شہر کانز میں شاہنواز بھٹو اپنے فلیٹ میں زہر دے کر قتل کر دیے گئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موت انتہائی خطرناک زہر سے ہوئی تھی۔ اس وقت فلیٹ میں صرف ریحانہ اور کم عمر سسئی موجود تھیں۔ فرانسیسی پولیس نے ریحانہ کو حراست میں لیا، بعد میں رہا کر دیا گیا۔
جائیداد کا تنازع
بھٹو خاندان میں جائیدادوں (70 کلفٹن، 71 کلفٹن، لاڑکانہ اور نوڈیرو کی زرعی زمینوں) کی تقسیم کا تنازع کئی دہائیوں پرانا ہے۔ سسئی بھٹو نے مئی 2024 میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں 71 کلفٹن اور نوڈیرو کی زرعی زمین پر اپنا حق تسلیم کرتے ہوئے انہیں “ناانصافی سے چھینے جانے” کا ذکر کیا تھا۔
اس مرتبہ سسئی بھٹو کا فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے بجائے آصفہ بھٹو زرداری کے گھر قیام کرنے کا فیصلہ خاندانی حلقوں میں توجہ کا باعث بنا ہوا ہے۔ بعض مبصرین اسے جائیداد کے تنازع میں آصف علی زرداری کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
