تفتان بارڈر پر چار ماہ سے 400 گاڑیاں پھنس گئیں، مالکان اور ڈرائیور شدید مالی بحران کا شکار
کلیئرنس میں غیر معمولی تاخیر، رہائش، خوراک اور روزگار کے اخراجات نے ٹرانسپورٹرز کی مشکلات بڑھا دیں متاثرین کا حکومت اور کسٹمز سے فوری مداخلت کا مطالبہ، "بلوچستان کی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جائے

تفتان (قدرت روزنامہ)ایران سے ملحقہ تفتان بارڈر پر گزشتہ چار ماہ سے تقریبا 400 تجارتی اور مال بردار گاڑیوں کی کلیئرنس نہ ہونے کے باعث سینکڑوں گاڑی مالکان، ڈرائیور اور ان سے وابستہ مزدور شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ طویل عرصے سے بارڈر پر گاڑیوں کے رکے رہنے کی وجہ سے متاثرہ افراد کو لاکھوں روپے کے مالی نقصانات کا سامنا ہے، جبکہ رہائش، خوراک، گاڑیوں کی دیکھ بھال اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافے نے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے متاثرہ گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں نے بتایا کہ چار ماہ گزر جانے کے باوجود ان کی گاڑیاں بارڈر پر کھڑی ہیں، جس کے باعث ان کا کاروبار مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیشتر افراد نے گاڑیاں بینک قرضوں یا بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے خرید رکھی ہیں، لیکن گاڑیوں کے مسلسل بند رہنے کی وجہ سے وہ اقساط ادا کرنے سے بھی قاصر ہو گئے ہیں۔ کئی ڈرائیور روزگار نہ ہونے کے باعث اپنے اہل خانہ کے اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ڈرائیوروں کے مطابق بارڈر پر طویل انتظار کے دوران انہیں رہائش، کھانے پینے، گاڑیوں کی مرمت اور دیگر ضروریات پر روزانہ اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ کئی گاڑیاں طویل عرصے تک کھڑی رہنے کے باعث فنی خرابیوں کا بھی شکار ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو انہیں مزید ناقابل تلافی مالی نقصان اٹھانا پڑے گا متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد مرتبہ متعلقہ حکام، کسٹمز انتظامیہ اور دیگر اداروں سے رابطہ کیا، تاہم اب تک مسئلے کے مستقل حل کے لیے کوئی مثر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ان کے مطابق غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کا شعبہ متاثر ہوا ہے بلکہ سرحدی تجارت بھی سست روی کا شکار ہو چکی ہے، جس کے اثرات بلوچستان کی مجموعی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں دوسری جانب سماجی و تجارتی حلقوں نے بھی اس مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتان بارڈر پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا ایک اہم راستہ ہے جہاں گاڑیوں کی طویل بندش سے درآمدات و برآمدات کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو سرحدی تجارت سے وابستہ سینکڑوں خاندانوں کا معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے یو این اے نے بھی اس معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومت، کسٹمز حکام اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتان بارڈر پر چار ماہ سے پھنسی تقریبا 400 گاڑیوں کا مسئلہ اب ایک سنگین معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ تنظیم کے مطابق ڈرائیور اور گاڑی مالکان بلوچستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان کا نقصان درحقیقت پورے صوبے کی معیشت کا نقصان ہے۔بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گاڑیوں کی فوری کلیئرنس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مثر رابطہ قائم کیا جائے اور ایسے انتظامات کیے جائیں تاکہ آئندہ اس نوعیت کی طویل تاخیر سے بچا جا سکے۔ متاثرین نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت ان کی مشکلات کا فوری ادراک کرتے ہوئے عملی اقدامات کرے گی تاکہ چار ماہ سے جاری بحران کا خاتمہ ہو، سرحدی تجارت معمول پر آئے اور ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور محنت کشوں کو مزید مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔
