دہشت گردوں سے بات نہیں ہوگی، ہتھیار ڈال دیں ورنہ ختم کر دیئے جائیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر
جان بوجھ کر یہ تاثر پھیلایا جاتا ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، پاکستان ہارڈ اسٹیٹ نہیں بلکہ ہارڈ اسٹیٹ سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہوں، میڈیا بریفنگ

راولپنڈی(قدرت روزنامہ)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، دہشت گرد ہتھیار ڈال دیں ورنہ ختم کر دیئے جائیں گے۔ ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جہاں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں۔ راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر یہ تاثر پھیلایا جاتا ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہارڈ اسٹیٹ نہیں بلکہ ہارڈ اسٹیٹ سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہوں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاست کو فوج چلا رہی ہو۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ رواں سال اب تک 2,084 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جبکہ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے ملوث تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گردوں کی مدد کر رہی ہے اور بم دھماکوں میں بھی زیادہ تر افغان باشندے ملوث پائے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست ہوگی تو سیاست، شناخت اور تمام ادارے قائم رہیں گے، حقوق کے ساتھ فرائض بھی ہوتے ہیں، ریاست کے ساتھ وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ آئین و قانون کی پابندی کرے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ہر شہری کی پہلی اور آخری شناخت پاکستانی ہونا چاہیے کیونکہ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بلوچستان کے بنیادی مسائل تک پہنچنے کی ضرورت ہے، بعض بااثر طبقے اور سردار نہیں چاہتے کہ غریب کا بچہ آگے بڑھے اور ترقی کرے، ہم مخصوص عناصر سے نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام سے بات کریں گے اور ان کے مسائل کے حل پر توجہ دی جائے گی۔
