فرح عظیم شاہ کے خلاف نازیبا الفاظ پر ضیاء لانگو برہم، اسپیکر سے کارروائی کا مطالبہ
خاتون رکن اسمبلی کی دل آزاری ناقابل قبول ہے، صادق عمرانی کے ریمارکس کا نوٹس لیا جائے، صوبائی وزیر داخلہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت) صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر میر صادق عمرانی کی جانب سے بلوچستان عوامی پارٹی کی خاتون رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا الفاظ کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسپیکر بلوچستان اسمبلی سے واقعے کا نوٹس لینے اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں نکتۂ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ وہ صوبائی وزیر میر صادق عمرانی کی جانب سے خاتون رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ کے خلاف استعمال کیے گئے نازیبا الفاظ کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاتون رکن اسمبلی کے بارے میں اس نوعیت کے الفاظ کا استعمال قابل افسوس اور اسمبلی کے تقدس کے منافی ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں اور اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ میر صادق عمرانی کے الفاظ سے خاتون رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ کی دل آزاری ہوئی ہے، جس کا ازالہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی ایک مقدس اور باوقار ادارہ ہے، جہاں تمام ارکان کو ایک دوسرے کے احترام اور پارلیمانی روایات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم اختلاف رائے کو ذاتی حملوں یا نازیبا الفاظ تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ ارکان اسمبلی پر لازم ہے کہ وہ ایوان کے وقار، خواتین ارکان کے احترام اور پارلیمانی اقدار کو مقدم رکھیں۔
صوبائی وزیر داخلہ نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل صورتحال کا جائزہ لے کر ذمہ دار رکن کے خلاف اسمبلی کے قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہوسکے اور ایوان کا ماحول برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین ارکان اسمبلی کو ایوان میں اظہارِ خیال اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران باعزت اور محفوظ ماحول فراہم کرنا تمام ارکان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے واضح کیا کہ بلوچستان اسمبلی میں سیاسی اختلافات کو ذاتی نوعیت کے تنازعات میں تبدیل کرنے کے بجائے مسائل پر سنجیدہ اور باوقار بحث ہونی چاہیے، تاکہ عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز رکھی جاسکے۔
