عمران خان کی زندگی کو اس وقت شدید خطرات لاحق ہیں، علیمہ خان

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے ایک بار پھر اپنے بھائی کی صحت اور اڈیالہ جیل میں ان کی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت اور جیل انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کی زندگی کو اس وقت شدید خطرات لاحق ہیں، عمران خان کو اکتوبر 2025ء میں مکمل تنہائی میں رکھے جانے سے پہلے وہ بالکل تندرست اور صحت مند تھے، تاہم دسمبر کے آخر تک ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونا شروع ہوئی، جیل سپرنٹنڈنٹ کو مسلسل مطلع کرنے کے باوجود دو ہفتے تک انہیں ڈاکٹر کی سہولت فراہم نہیں کی گئی بعد ازاں ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ اس تاخیر کی وجہ سے ان کی آنکھ کو مستقل نقصان پہنچا ہے۔
IMRAN KHAN’S LIFE IS NOW CLEARLY IN DANGER!
Imran Khan has repeatedly warned: “They will kill me as they killed Morsi in Egypt.”
Imran Khan was fit and healthy before being placed in complete isolation in October 2025. By the end of December, he began losing sight in one eye.… pic.twitter.com/8dqV47JqHL
— Aleema Khanum (@Aleema_KhanPK) September 12, 2026
ان کا کہنا تھا کہ جیل کی سی سی ٹی وی کی نگرانی کرنے والوں کو اس بات کی مکمل خبر تھی لیکن مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، جولائی کے آخر سے سوشل میڈیا پر ان کی صحت بگڑنے، بلڈ پریشر میں ناہمواری اور ذہنی تناؤ کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں اور ساتھ ہی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز گردش کرائی جا رہی ہیں، عمران خان نے سختیوں کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹے، جس کے بعد ان کی صحت اور ذہنی حالت سے متعلق یہ غلط بیانیہ گھڑا جا رہا ہے۔
علیمہ خان نے نشاندہی کی کہ 18 اگست 2026ء کو سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی موجودگی میں ان کا آزادانہ طبی معائنہ ہوسکے، تاہم 20 اگست کی طے شدہ مہلت کے باوجود اس حکم پر اب تک عملدرآمد نہیں کیا گیا، اب پرامن طور پر سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا، جس میں دو بنیادی مطالبات پیش کیے جائیں گے۔
ہمارا ایک مطالبہ یہ ہے کہ 18 اگست کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، اور دوسرا مطالبہ ہم یہ کرتے ہیں کہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیسز میں مہینوں سے التوا کا شکار ضمانت کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر یا تو فوری طور پر انصاف فراہم کریں یا پھر کیس سے الگ ہو جائیں۔
