ایس آئی ایف سی کی موثر سہولت کاری، 135 میگاواٹ تونسہ ہائیڈرو پاور منصوبے کے فیزیبلٹی اخراجات کا دیرینہ معاملہ طے

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی بروقت اور موثر رابطہ کاری کے نتیجے میں 135 میگاواٹ تونسہ ہائیڈرو پاور منصوبے کی فیزیبلٹی اسٹڈی کے اخراجات کی ادائیگی کا طویل عرصے سے زیرِ التوا تنازع حل کر لیا گیا ہے۔
ملکی معاشی ڈھانچے میں بہتری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے سرگرم اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل یعنی ایس آئی ایف سی نے توانائی کے شعبے میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کی ہے۔
چائنا تھری گورجز ساؤتھ ایشیا انویسٹمنٹ لمیٹڈ کے دیرینہ معاہداتی معاملے کو حل کرنے سے پنجاب میں ہائیڈرو پاور کے پراجیکٹس کو نئی رفتار ملی ہے۔
منصوبے کا پس منظر اور ارتقا
تونسہ ہائیڈرو پاور منصوبے کا آغاز 2011 میں کیا گیا تھا، جب اس کی ابتدائی استعداد 120 میگاواٹ رکھی گئی تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ توانائی کی بڑھتی ہوئی قومی ضروریات اور فنی جائزوں کی روشنی میں اس منصوبے کے دائرہ کار کو وسعت دی گئی اور اسے 135 میگاواٹ کی استعداد کے حامل منصوبے کے طور پر ری ڈیزائن کیا۔
چینی سرمایہ کار کمپنی نے اس مرحلے پر فیزیبلٹی اسٹڈی کی تمام ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کیں، مگر ان مطالعاتی اور تکنیکی اخراجات کی ادائیگی کا عمل بیوروکریٹک الجھنوں اور مالیاتی رکاوٹوں کے باعث طویل عرصے تک پھنس گیا۔
حل کی جانب پیش رفت اور چینی قیادت کا اعتراف
ایس آئی ایف سی کے پلیٹ فارم سے وفاقی اور صوبائی محکموں کے درمیان جو مربوط پل کا کردار ادا کیا گیا، اس نے اس گرہ کو وا کیا۔
چائنا تھری گورجز ساؤتھ ایشیا انویسٹمنٹ لمیٹڈ کے اسسٹنٹ سی ای او لیو یونگ گانگ نے اس پیش رفت کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ایف سی کی بروقت معاونت اور حکمت عملی نے جائز معاہداتی مسائل کو نپٹایا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد پنجاب میں 135 میگاواٹ کے تونسہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر آئندہ پیش رفت کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
کاروباری ماحول اور پاک چین اشتراک
کمپنی کے مطابق، اس قسم کے دیرینہ معاہداتی مسائل کے حل سے نہ صرف زیرِ التوا پراجیکٹس آگے بڑھتے ہیں بلکہ ملک میں مجموعی طور پر عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد اور کاروباری ماحول مزید مستحکم ہوتا ہے۔
پاک چین اقتصادی شراکت داری کے تناظر میں یہ قدم باہمی اعتماد کی فض کو دوچند کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایس آئی ایف سی (SIFC) کے تحت ملک گیر الیکٹرک چارجنگ سٹیشن لگانے کے لیے بڑا گروپ سامنے آگیا
معاشی اور توانائی امور کے تجزیہ کاروں کے نزدیک، غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) خصوصاً ہائیڈرو پاور جیسے کیپیٹل انٹینسو سیکٹرز میں فیزیبلٹی کاسٹ کا التوا پراجیکٹ کے رسک پروفائل کو خراب کر دیتا ہے۔
2011 سے جاری اس تاخیر نے یہ ثابت کیا کہ روایتی بیوروکریسی انویسٹمنٹ سیٹلمنٹ میں کتنی کند رفتار رہی ہے۔
ایس آئی ایف سی کا ماڈل یہاں اس لیے کامیاب رہا کیونکہ اس نے وفاقی اور صوبائی سلوز کو ایک میز پر لایا۔
تونسہ پراجیکٹ کا یہ حل ہونا اس بات کا غماز ہے کہ ون ونڈو آپریشن اگر بااختیار ہو، تو چینی کمپنیوں کے گلے شکوے دور کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم طویل المدتی چیلنج یہ ہے کہ فیزیبلٹی سے فنانشل کلوزر تک کے مراحل کو خودکار بنایا جائے تاکہ دہائیوں کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
اس سے سستی پن بجلی کے قومی ہدف کو جلد پایا جا سکے گا اور ملک کی رسک پرسیپشن میں گراویٹ رکے گی۔
