پی ٹی آئی ورکر اشتیاق خان کے جنازے پر پولیس کی بھاری نفری اور عجلت میں تدفین کے الزامات


لاہور (قدرت روزنامہ) 12 ربیع الاول کو پولیس کے مبینہ دھاوے کے دوران کھولتے ہوئے تیل سے جھلس کر جاں بحق ہونے والے پی ٹی آئی کے کارکن اشتیاق خان کے جنازے کے انتظامات کے دوران پولیس کی مبینہ مداخلت اور سکیورٹی کے سخت پہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنازے اور تدفین کے موقع پر ریاست اور انتظامیہ کا رویہ انتہائی سخت تھا، صحافی محمد عمیر نے ایکس پر اپنی لکھا کہ ایس پی اقبال ٹاؤن سدرہ کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود تھی۔
صحافی کا کہنا ہے کہ میت کو صرف دس منٹ کے لیے گھر کے باہر رکھا گیا تاکہ دور کے رشتہ دار بھی نہ پہنچ سکیں اور پولیس کی نگرانی میں جلدی سے جنازہ اور تدفین مکمل کرائی گئی، موقع پر ویڈیو یا تصاویر بنانے والے شہریوں کو پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا، جبکہ پی ٹی آئی کا کوئی بھی مرکزی رہنما جنازے میں شرکت کے لیے نہیں پہنچا۔

خیال رہے کہ 12 ربیع الاول کے روز عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر مبینہ پولیس ریڈ کے دوران کھولتے ہوئے تیل کی کڑھائی میں گر کر شدید جھلسنے والے پاکستان تحریک انصاف کے سرگرم ورکر اشتیاق خان 18 روز تک میو ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد انتقال کرگئے۔ پی ٹی آئی رہنما زبیر خان نیازی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اشتیاق خان 12 ربیع الاول کو پیش آنے والے اس دلخراش واقعے میں شدید زخمی ہوئے تھے، جنہیں علاج کے لیے میو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، ڈاکٹرز کی طویل کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

WhatsApp
Get Alert