محکمہ فشریز بلوچستان کی غفلت اور نا اہلی ‘ ناکارہ نظام کے باعث ڈوبنے والے ماہی گیر تاحال لاپتہ ، غوطہ خور اور لائف بوٹس کی عدم دستیابی نے امدادی کاموں پر سوالیہ نشان لگا دیا
انسانی جانوں کے ضیاع پر شہریوں کا شدید احتجاج، متعلقہ حکام سے فوری تحقیقات اور ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

گڈانی / حب (ڈیلی قدرت) گڈانی کے ساحل پر سمندر میں ڈوبنے کے ایک افسوسناک واقعے میں چھ افراد کے ڈوب گئے اوران میں سے تین افراد کے تاحال لاپتہ ہونے کی اطلاعات نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو شدید کرب اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ ساحلی علاقے میں پٹرولنگ، ریسکیو اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر بھی متعدد سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واقعے کے بعد مقامی حلقوں اور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سمندر میں لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے موجودہ انتظامات کا فوری جائزہ لیا جائے اور اگر کسی سطح پر غفلت یا کوتاہی سامنے آتی ہے تو اس کے ذمہ داروں کا تعین کرکے کارروائی عمل میں لائی جائییو این اے کے مطابق حالیہ واقعے میں گڈانی کے ساحل پر سمندر میں چھ افراد ڈوب گئے، جن میں سے تین افراد کو تلاش کیا جا چکا ہے جبکہ تین افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے ان کے اہل خانہ شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں اور ان کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تلاش کا عمل مزید تیز کیا جائے اور جدید و مثر ریسکیو وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے لاپتہ افراد کی تلاش یقینی بنائی جائے ذرائع کا کہنا ہے کہ گڈانی کی سمندری حدود میں پٹرولنگ، نگرانی، ہنگامی حالات میں امدادی کارروائی اور سمندر میں ڈوبنے والے افراد کی تلاش کے لیے محکمہ فشریز کے ذمہ داران اور متعلقہ عملہ موجود ہے، تاہم حالیہ واقعے نے اس نظام کی عملی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی ساحلی علاقے میں باقاعدہ پٹرولنگ اور ریسکیو کا نظام موجود ہو تو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متاثرہ افراد کو کم سے کم وقت میں امداد فراہم کرنا بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے، لیکن گڈانی کے حالیہ واقعے میں تین افراد کا تاحال لاپتہ رہنا تشویش کا باعث ہے ذرائع کے مطابق محکمہ فشریز گڈانی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پٹرولنگ کی کارکردگی بھی سوالات کی زد میں آ گئی ہے۔ ذرائع کی جانب سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ عملے کے بعض اہلکار مبینہ طور پر فیلڈ میں اپنی ذمہ داریاں باقاعدگی سے ادا کرنے کے بجائے گھروں میں موجود رہتے ہیں اور تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ تاہم ان دعوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے جس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی جا سکے ذرائع نے مزید دعوی کیا ہے کہ گڈانی میں سمندری ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بوٹ اسکیپر اور تربیت یافتہ غوطہ خوروں کی عدم دستیابی بھی ایک اہم مسئلہ بن رہی ہے۔ سمندر میں کسی شخص کے ڈوبنے کی صورت میں ابتدائی چند منٹ انتہائی اہم تصور کیے جاتے ہیں، ایسے میں اگر تربیت یافتہ غوطہ خور، ماہر بوٹ اسکیپر، فعال ریسکیو بوٹ اور ضروری حفاظتی سامان دستیاب نہ ہوں تو امدادی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے مقامی افراد کے مطابق گڈانی ایک اہم ساحلی تفریحی اور صنعتی علاقہ ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں مقامی لوگوں اور دیگر افراد کی آمد و رفت کا مرکز بھی ہے۔ ساحل پر شہریوں کی موجودگی اور سمندر سے وابستہ مختلف سرگرمیوں کے باعث کسی بھی وقت ہنگامی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے یہاں مثر پٹرولنگ، نگرانی اور فوری ریسکیو نظام کی موجودگی ناگزیر ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ساحل پر صرف عملہ تعینات کرنا کافی نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ متعلقہ اہلکار باقاعدگی سے ڈیوٹی انجام دے رہے ہوں اور تمام ضروری ریسکیو آلات ہر وقت قابل استعمال حالت میں موجود ہوں حالیہ واقعے کے بعد یہ بنیادی سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ اگر محکمہ فشریز کے پاس سمندری حدود کی نگرانی اور پٹرولنگ کا نظام موجود ہے تو سمندر میں ڈوبنے والے افراد کو فوری اور مثر امداد کیوں فراہم نہیں کی جا سکی؟ کیا گڈانی میں تعینات پٹرولنگ عملہ باقاعدگی سے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا ہے؟ کیا متعلقہ حکام کے پاس عملے کی حاضری اور فیلڈ ڈیوٹی کی نگرانی کا مثر نظام موجود ہے؟ کیا محکمہ فشریز کے پاس فعال اور فوری طور پر استعمال ہونے والی ریسکیو بوٹس، تربیت یافتہ غوطہ خور اور ماہر بوٹ اسکیپر دستیاب ہیں؟ اور اگر یہ تمام سہولیات موجود ہیں تو پھر تین افراد کے تاحال لاپتہ ہونے کی صورت میں تلاش اور ریسکیو آپریشن میں ان وسائل کا مثر استعمال کیوں نظر نہیں آ رہا متاثرہ خاندانوں اور مقامی لوگوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ لاپتہ تین افراد کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں اور سرچ آپریشن کو اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک لاپتہ افراد کے بارے میں حتمی معلومات حاصل نہ ہو جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں تاخیر متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتی ہے، اس لیے متعلقہ اداروں کو فوری، مربوط اور مثر کارروائی یقینی بنانی چاہییعوامی حلقوں نے صوبائی حکومت، محکمہ فشریز اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ گڈانی کے ساحل پر پٹرولنگ اور ریسکیو کے موجودہ نظام کا ہنگامی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے، عملے کی حاضری اور کارکردگی کی مثر نگرانی کی جائے، ریسکیو آلات اور کشتیوں کی حالت چیک کی جائے اور جہاں ضروری ہو وہاں مزید وسائل فراہم کیے جائیں۔ شہریوں نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کا تحفظ کسی بھی ادارے کی اولین ذمہ داری ہے اور ساحلی علاقوں میں معمولی غفلت بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیحکام سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ لاپتہ تین افراد کی تلاش کے لیے جاری کارروائی سے متعلق متاثرہ خاندانوں اور عوام کو باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے تاکہ افواہوں اور بے یقینی کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ ساتھ ہی اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ گڈانی کے ساحل پر مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مستقل اور مثر حفاظتی و ریسکیو نظام قائم ہومقامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حالیہ واقعے کو محض ایک حادثہ سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے اس سے حاصل ہونے والے اسباق کی روشنی میں ساحلی حفاظتی انتظامات کو بہتر بنایا جائے گا اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔
