محکمہ صحت بلوچستان میں جونیئرز کو ایکٹنگ چارج دینے اور ٹیکنیکل پوسٹوں پر نان ڈاکٹرز کی تعیناتی کسی صورت قبول نہیں: پی ایم اے
وزیرِ صحت کے دعووں کے باوجود 25 لیڈی میڈیکل آفیسرز کی بلاجواز برطرفی سے اعتماد کا فقدان پیدا ہو رہا ہے، فوری بحالی کا مطالبہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) بلوچستان کے صدر ڈاکٹر نعیم زرکون کی زیرِ صدارت اتوار کوایک تعارفی و مشاورتی اجلاس آر بی سی سینٹر کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ جس میں پی ایم اے بلوچستان، وائی ڈی اے بلوچستان، پی ایم اے کوئٹہ زون، سینئر اراکین اور ڈاکٹرز کمیونٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد شرکاء نے باہمی تعارف اور مختلف تنظیمی و پیشہ ورانہ امور پر تفصیلی مشاورت کی۔اجلاس میں پی ایم اے بلوچستان کی سابقہ کابینہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے تنظیم کے مستقبل کے لائحہ عمل اور دائرہ کار پر گفتگو کی گئی اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پی ایم اے بلوچستان کا اپنا باقاعدہ آئین ہونا چاہیے جس میں تنظیم کے اختیارات، ذمہ داریوں اور دائرہ کار کو واضح کیا جائے۔ڈاکٹرز کے اے سی آرز کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے دیے گئے مختصر وقت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات میں ایک ہفتے کے اندر اے سی آرز مکمل کرنا عملی طور پر مشکل ہے مطالبہ کیا گیا کہ اے سی آر پر ڈپٹی کمشنر کے دستخط کی شرط ختم کرکے متعلقہ ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ یا ڈی ایچ او کو یہ اختیار دیا جائے۔اجلاس میں ڈاکٹرز کی ٹیکنیکل پوسٹس پر نان ڈاکٹرز کی تعیناتی، جونیئر افسران کو سینئر عہدوں کا ایکٹنگ چارج اور بعض افسران کو متعدد اضافی یا لوک آفٹر چارجز دیے جانے پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ تعیناتیوں میں میرٹ، سینیارٹی اور متعلقہ پیشہ ورانہ اہلیت کو یقینی بنایا جائے۔اسپیشلسٹ کیڈر کے ڈاکٹرز کے سروس اسٹرکچر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ متعدد اسپیشلسٹ ڈاکٹرز گریڈ 18 میں بھرتی ہونے کے بعد مناسب پروموشنل اسٹرکچر نہ ہونے کے باعث اسی گریڈ میں رہ جاتے ہیں لہٰذا ان کے لیے واضح اور مؤثر سروس اسٹرکچر اور ترقی کا نظام وضع کیا جائے۔اجلاس میں صوبائی اسمبلی کی جانب سے سول اور بی ایم سی کے لیے سیمی آٹونومس باڈی کے ماڈل کو متعارف کرانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے معطل ڈاکٹرز کی بحالی کے وعدے پر عملدرآمد نہ ہونے اور ناقص معلومات کی بنیاد پر 25 لیڈی میڈیکل آفیسرز کی برطرفی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جس سے محکمہ صحت اور ڈاکٹرز کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔اجلاس میں پیری فری علاقوں میں فرائض انجام دینے والے ڈاکٹرز کی سکیورٹی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ڈاکٹرز کمیونٹی کے لیے مختص رہائشی مکانات اور رہائشی اراضی پر غیر متعلقہ افراد کے مبینہ غیر قانونی قبضے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں ڈاکٹرز کے نام پر موجود رہائشی املاک اور اراضی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی، جو حقائق اور ریکارڈ کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ اسی طرح پی ایم اے بلوچستان کی ملکیتی جائیدادوں اور تنظیمی فنڈز کی تفصیلات اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بھی کمیٹی تشکیل دی گئی۔اجلاس میں ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ کی ایمپاورمنٹ سمیت دیگر اہم تنظیمی امور کے لیے بھی متعلقہ کمیٹیاں تشکیل دی گئیںجو اپنی سفارشات آئندہ اجلاس میں پیش کریں گی۔اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ وہ ایک قابل، متحرک اور اصلاحات کے لیے سنجیدہ وزیر ہیں ان کی جانب سے نئے اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹراما سینٹر کے قیام، ایئر ایمبولینس سروس کے آغاز اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے کیے گئے اقدامات قابلِ تحسین ہیں تاہم ان مثبت اقدامات کے باوجود محکمہ صحت میں مزید بہتری اور بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے پی ایم اے بلوچستان نے امید ظاہر کی کہ صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹرز کمیونٹی کو صحت کے نظام کا اہم اسٹیک ہولڈر تسلیم کرتے ہوئے ڈاکٹرز کے سروس اسٹرکچر، پیشہ ورانہ مسائل، سکیورٹی اور دیگر جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کریں گے۔
