مینڈیٹ چوری ہونے سے ملک بے یقینی کا شکار ہے، جے یو آئی خضدار اور پی بی 36 پر اپنا حق لے گی، سینیٹر مولانا عبدالواسع

کوئٹہ (ڈیلی قدرت نیوز) امیر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ طاغوتی قوتوں کا اہلِ اسلام کے خلاف جو بھی ایجنڈا ہو، وہ اس پر باہم متحد ہو کر عمل پیرا ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز اس امر کے متقاضی ہیں کہ اہلِ حق بھی باہمی اتحاد، بصیرت اور جرات کے ساتھ میدان میں آئیں۔ جمعیت علمائے اسلام ہمیشہ مظلوم اقوام کی آواز رہی ہے اور آئندہ بھی ہر مظلوم کے حق میں اور ہر ظالم کے خلاف اپنی مؤثر اور دوٹوک آواز بلند کرتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کی سرزمین پر کسی غاصب قوت کا کوئی حق نہیں۔ یہ سرزمین اہلِ فلسطین کی ہے اور دنیا کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ جو غاصب جہاں سے آئے ہیں انہیں وہیں واپس بھیجا جانا چاہیے۔ جمعیت علمائے اسلام اس عالمی ناانصافی کے خلاف نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط اور مؤثر آواز کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے ملکی اور صوبائی سیاسی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک اور بالخصوص صوبہ بلوچستان جن مشکلات اور سیاسی بے یقینی کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرکے من پسند نمائندوں کو اسمبلیوں میں بٹھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عوام کے حقیقی نمائندوں کی جگہ مصنوعی اور مسلط کردہ قیادت کو مسندِ اقتدار پر بٹھایا جاتا ہے تو اس کے نتائج پورا معاشرہ بھگتتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پی بی 36 اور خضدار کی قومی اسمبلی کی نشست پر جمعیت علمائے اسلام کو واضح عوامی اکثریت حاصل ہے اور اس عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کامیابی کے حصول کے لیے ضرورت پڑی تو عوام کو میدان میں نکالا جائے گا اور جمہوری طریقے سے اپنے حق کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں حالیہ بدترین دھاندلی نہ صرف جمہوری عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عوام کے اندر نظام سے شدید بددلی اور نفرت کو بھی جنم دیتے ہیں۔ اگر عوام کو بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں تو پھر انہیں آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کا ہمیشہ سے یہ واضح اور اصولی موقف رہا ہے کہ مسائل کا حل جمہوری اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب عوامی مینڈیٹ پر تاریخ کا بدترین ڈاکہ ڈال کر اس موقف کی نفی کی جاتی ہے تو درحقیقت ان عناصر کے بیانیے کو تقویت دی جاتی ہے جو مسائل کے حل کے لیے غیر جمہوری اور غیر موزوں راستوں کو اختیار کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ حلقوں کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ جمہوریت کی بقا کا دارومدار عوام کے فیصلوں کے احترام میں ہے۔ اگر عوام کے فیصلوں کو بار بار پامال کیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف جمہوری نظام بلکہ ریاستی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔مولانا عبدالواسع نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمعیت علمائے اسلام اپنے عوامی مینڈیٹ، جمہوری اقدار اور مظلوم اقوام کے حقوق کے دفاع کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی کو بھی عوام کے فیصلے پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
