خضدار کو غیر ملکی ایجنٹوں اور مفاد پرستوں نے برباد کیا، 37 ارب روپے ہڑپ کر کے دہشتگردوں کو دیے گئے: میر شفیق الرحمٰن مینگل کا تہلکہ خیز انکشاف
وڈھ کے دو وزرائے اعلیٰ مل کر بھی نواب ثناء اللہ زہری کے دور کا مقابلہ نہیں کر سکتے، تعلیم، صحت اور گیس کی فراہمی میری اولین ترجیح ہوگی: خلق جھالاوان میں ضمنی الیکشن کے جلسے سے خطاب

خضدار (ڈیلی قدرت نیوز) حلقہ این اے 256 خضدار کے ضمنی انتخاب کے امیدوار میر شفیق الرحمٰن مینگل نے ‘خلق جھالاوان’ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفاد پرست سیاستدانوں نے جھالاوان بالخصوص وڈھ، آڑنجی اور سارونہ کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا، جبکہ اس کے برعکس زہری سے منسلک علاقے کرخ اور مولہ آج تعلیم کے میدان میں ان سے کہیں آگے ہیں۔ انہوں نے براہوئی زبان میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر نواب دودا خان زہری اور نواب ثناء اللہ زہری نہ چاہتے تو زہری، کرخ اور مولہ میں تعلیم اس قدر عام نہیں ہو سکتی تھی۔ ان کا دو ٹوک کہنا تھا کہ وڈھ سے دو شخصیات وزیراعلیٰ رہیں، لیکن ان کے دونوں ادوار مل کر بھی ترقی اور خوشحالی میں نواب ثناء اللہ زہری کے دورِ حکومت کے برابر نہیں ہو سکتے۔
میر شفیق الرحمٰن مینگل نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ کل کے روسی ایجنٹوں اور آج کے انڈین ایجنٹوں نے خضدار کو مکمل طور پر برباد کر دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی میں عمران خان اور قدوس بزنجو کی حکومتوں کے دوران 37 ارب روپے ہڑپ کیے گئے اور اس خطیر رقم سے مبینہ طور پر دہشت گردوں کی فنڈنگ کی گئی جس سے بے گناہ لوگوں کا خون بہا۔ انہوں نے مخالفین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مشہور براہوئی کہاوت “بیش امو بیش اے جل تہ بدل اے” (گدھا وہی ہے، صرف جھول بدلی ہے) دہرائی اور کہا کہ یہ بہروپیے 2002 سے اب تک عوام کو انہی جذباتی نعروں سے بیوقوف بنا رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ منتخب نمائندوں نے اسمبلیوں میں جا کر صرف اشتعال انگیزی کی لیکن خضدار کے عوام کو گیس تک فراہم نہ کر سکے، جبکہ قلات کو یہ سہولت مل گئی۔
جلسے میں اپنے انتخابی منشور کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے میر شفیق الرحمٰن مینگل نے کہا کہ اگر عوام نے انہیں منتخب کیا تو ان کی پہلی ترجیح ‘تعلیم’ ہوگی۔ دوسری ترجیح ‘صحت’ کو قرار دیتے ہوئے انہوں نے ایک عالمی رپورٹ کا حوالہ دیا کہ زچگی کے دوران اموات میں خضدار بدقسمتی سے پہلے نمبر پر ہے، جو انہی مفاد پرستوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے سندھ میں 18ویں ترمیم کے بعد صحت کی جدید سہولیات کو پیپلز پارٹی کا شاندار وژن قرار دیا۔ ان کے ایجنڈے کا تیسرا اہم نکتہ خضدار میں دیرپا امن، روزگار کی فراہمی اور عوام کے عزت و وقار کی بحالی ہے۔ مزید برآں، خضدار کو گیس کی فراہمی اور انٹرنیٹ (نیٹ) کے مسائل کا حل بھی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہوگا۔
خطاب کے آخر میں میر شفیق الرحمٰن مینگل نے تعلیم اور امن کے لیے چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری کی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خضدار میں ‘سکندر یونیورسٹی’ کا قیام نواب صاحب کی تعلیم دوستی کی سب سے بڑی اور زندہ مثال ہے۔ امن کے قیام کے لیے نواب صاحب نے اپنے جگر گوشے، بھائی اور ساتھیوں کی عظیم قربانیاں دیں، اور اسی امن کی خاطر ہم نے بھی عطاء الرحمٰن کی قربانی پیش کی ہے۔
