کوئی تقسیم نہیں ، ہماری یکجہتی آہنی ہے : ایرانی قیادت کا ٹرمپ کو جواب


تہران(قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے نظامِ حکومت میں تقسیم کے بار بار دعوؤں کے بعد متعدد ایرانی حکام نے رد عمل ظاہر کیا ہے۔
ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایژہ ای نے امریکی صدر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے گذشتہ رات ایکس (ٹویٹر) پر لکھا کہ ٹرمپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ “متشدد” اور “اعتدال پسند” کی اصطلاحیں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں، جو صرف مغربی سیاسی بیانیے میں رائج ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں تمام طبقات اور نظریات بالآخر متحد ہیں اور رہبرِ انقلاب کی ہدایات پر عمل پیرا ہیں۔


یہ رد عمل اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے حکومت میں کسی بھی قسم کی دراڑ کی تردید کے بعد سامنے آیا ہے۔ قالیباف نے “ایکس” پر اپنی پوسٹ میں لکھا “ایران میں کوئی انتہا پسند یا اعتدال پسند نہیں، ہم سب ایرانی ہیں … عوام اور ریاست کے درمیان آہنی اتحاد اور سپریم لیڈر کی مکمل اطاعت کے ساتھ ہم جارح کو اس کے کیے پر پچھتانے پر مجبور کر دیں گے۔” دل چسپ بات یہ ہے کہ صدر مسعود پزشکیان نے بھی حرف بہ حرف یہی الفاظ اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کیے۔
اسی طرح وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی باور کرایا ہے کہ “میدانِ جنگ اور سفارت کاری ایک ہی جنگ کے دو مکمل طور پر مربوط محاذ ہیں”۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام ایرانی پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہیں۔
یہ بیانات ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “متشدد اور اعتدال پسند” گروہوں کے درمیان انقسام ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔


دوسری جانب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے پہلے ہی روز اپنے والد کی ہلاکت کے بعد منصب سنبھالنے والے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اب تک منظرِ عام پر نہیں آئے۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ “شدید زخمی” ہیں اور ان کا چہرہ جھلس چکا ہے، تاہم وہ ہوش میں ہیں لیکن ان سے رابطہ بہت محدود ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اور سیاسی حکام اسرائیلی انٹیلی جنس کے تعاقب سے بچنے کے لیے ان سے ملاقات سے گریز کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اگر ایرانی نظام میں تقسیم کی خبریں درست ہیں تو یہ پہلا موقع نہیں ہوگا۔ اس سے قبل سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی ایک آڈیو لیک ہوئی تھی جس میں انہوں نے سفارتی امور میں پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سابق سربراہ قاسم سلیمانی کی مداخلت کا ذکر کیا تھا، جس پر ظریف کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

WhatsApp
Get Alert