بھارتی روپے کی قدر میں بڑی کمی! مودی سرکار کے معاشی استحکام کے دعوے کھوکھلے ثابت

نئی دہلی (قدرت روزنامہ)بھارتی روپیہ گزشتہ ساڑھے تین سال کی مدت میں اپنی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ سے دوچار ہوا ہے۔ یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا۔

ڈالر کے مقابلے میں بھارتی روپیہ 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 94.2550 کی سطح پر بند ہوا جبکہ پورے ہفتے کے دوران مجموعی کمی 1.4 فیصد رہی، جو ستمبر 2022 کے بعد روپے کی سب سے بڑی ہفتہ وار تنزلی ہے۔

عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمتیں مسلسل پانچویں روز بھی بڑھتی رہیں اور 106.50 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت شامل ہے۔

بھارتی روپیہ پہلے ہی اس بہتری کا بڑا حصہ کھو چکا ہے جو اسے مارچ اور اپریل کے آغاز میں مرکزی بینک کی جانب سے کیے گئے معاون اقدامات کے نتیجے میں حاصل ہوا تھا تاہم حالیہ دنوں میں بھارتی ریزرو بینک (RBI) نے ان سپورٹ اقدامات میں کچھ نرمی اختیار کی ہے جس کا اثر کرنسی پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

دس سالہ سرکاری بانڈ کی پیداوار میں بھی دن بھر اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور آخرکار معمولی کمی کے ساتھ یہ 6.94 فیصد پر بند ہوئی، جبکہ دورانِ تجارت یہ 4 بیسس پوائنٹس تک بڑھ گئی تھی۔

معاشی ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتیں اور کرنسی مارکیٹ ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں اور جب تک عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی، بھارتی روپے پر دباؤ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل مہنگا ہونے کی صورت میں ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے جس سے مقامی کرنسی مزید کمزور ہوتی ہے۔

بھارتی معاشی مشیروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں روپیہ اپنی اصل قدر کے مقابلے میں کم سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے جس کے باعث مستقبل میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

WhatsApp
Get Alert