پشتونوں کا قتل عام اور وسائل پر قبضہ جاری ہے؛ منظم سازش کے تحت نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنایا جا رہا ہے، نواب ایاز خان جوگیزئی

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کہا ہے کہ ظلم و جبر کی انتہا کردی پشتونوں کو کہیں بھی نہیں چھوڑا جارہا۔ مختلف ناموں سے پشتونوں کا قتل عام، استحصال اور زبان و ثقافت کی تضحیک و توہین جاری ہے، ہنہ اوڑک اور زیارت کے شہداء کے خاندانوں کے دُکھ درد میں پوری پشتون قوم اور پشتونخوا وطن کے تمام باسی برابر کے شریک ہیں۔ اب پوری قوم یہ سمجھ چکی ہے کہ اس سارے حالات میں کون کیا کررہا ہے۔ وطن کے وسائل پر قبضہ کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے۔ اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ نہیں کیا تو مزید لاشیں اُٹھانے کا خدشہ ہے، ہمارے وطن کو مختلف آپریشنز کے نام پر تباہ و برباد کیا گیا لیکن جن کے خلاف آپریشن کے نام رکھے گئے جن کے خلاف آپریشن کرنا تھا اُنہیں کچھ نہیں کہا گیا۔ آج ایک مرتبہ پھر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے نام پر یہاں جنگ مسلط کی جارہی ہے۔ شہداء کے بچوں اور خاندانوں کی کفالت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ احتجاجی دھرنے کے ساتھ کھڑے ہیں بغیر کوئی احسان جتائے کیونکہ یہ ہمارا فرض ہے۔ تمام مطالبات کی حمایت کرتے ہیں اور فوری حل چاہتے ہیں۔ ان حالات میں تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا دوست اور دشمن سب کی نظریں ہم پر ہیں ہم سب نے یکجہتی کا مظاہرہ نہ کیا تو بربادی ہمارا مقدر ہوگی۔
ان خیالات کا اظہار نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کوئٹہ کے علاقہ ہنہ اوڑک کلی ببری میں المناک دہشت گردانہ واقعہ جس میں 5 افراد شہید، کئی زخمی اور 11 افراد کے اغواء کے خلاف بی اے مال ایئرپورٹ روڈ پر ہنہ اوڑک عوام کے زیر اہتمام جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی مرکزی ڈپٹی چیئرمین عبدالرئوف لالا، مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری مالیات آغا سید لیاقت علی، مرکزی سیکرٹریز ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، علاؤالدین کولکوال، عبدالحق ابدال، صلاح الدین اچکزئی، صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان، صوبائی سینئر نائب صدر و ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا، صوبائی نائب صدر مجید خان اچکزئی، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان، صوبائی ایگزیکٹیوز، نصیر ننگیال، ملک عمر کاکڑ، حبیب اللہ ناصر ایڈووکیٹ، سردار ادریس بڑیچ، گل خلجی، دارا خان جوگیزئی، حضرت عمر ایڈووکیٹ، حبیب الرحمن بازئی، ملک ذاکر حسین کاسی، نوابزادہ اسفندیار جوگیزئی، صورت خان کاکڑ، حفیظ ترین، ضلع سینئر معاونین سعید خان کاکڑ، جمشید دوتانی و دیگر ضلع ایگزیکٹیوز، ضلع کمیٹی، چاروں تحصیلوں کے عہدیداران بھی موجود تھے۔ پارٹی ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام عظیم الشان جلوس پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے روانہ ہوئی اور احتجاجی دھرنے میں ہزاروں کارکنان اور کوئٹہ کے غیور قوم دوست، وطن دوست، جمہوریت پسند اور امن پسند عوام نے شرکت کی۔
نواب محمد ایازخان جوگیزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتون وطن کے معدنیات پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پشتون آپس کی رنجشوں میں ایک دوسرے کا خون بہا دیتے ہیں، متحد ہوکر اپنے وطن اور کے وسائل کا دفاع نہیں کررہے، معمولی باتوں، زمین کے تنازعوں پر اپنے چچا زاد بھائیوں میں لڑپڑتے ہیں لیکن یہاں بحیثیت قوم ان کی زمینوں، پہاڑوں، معدنیات، جنگلات پر قبضہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے نام ہمارے وطن کو برباد کیا گیا۔ جن کے نام پر آپریشن رکھا گیا ان کے خلاف کچھ نہیں ہوا، آج ہمارے وطن کے بچوں کو شہید کیا جارہا ہے۔ عوام یہ سوال کررہے ہیں کہ ہمارے وطن میں مختلف کمانڈرز کی تخلیق اور ان کی سرپرستی کون کررہے ہیں۔ یہاں ایک معزز اپنے ساتھ لائسنس کے باوجود اسلحہ نہیں رکھ سکتا لیکن ان کمانڈرز کے ساتھ جدید اسلحہ راکٹ لانچرز سکیل، کلاشنکوف وغیرہ موجود ہیں سرعام نمائش کی جارہی ہے۔ کوئٹہ شہر اور ایئرپورٹ پر گھوم رہے ہوتے ہیں یہاں ہر ضلع میں الگ قانون ہے۔ کوئٹہ سے باہر تو ایک الگ ماحول ہے لیکن انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قلعہ سیف اللہ ایک ہندو ڈپٹی کمشنر ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکتا ہے اُس نے یہ کمال کردکھایا کہ تمام قلعہ سیف اللہ میں کئی ایکڑز پر کاشت ہونیوالے پوست افیون کی فصلوں کو تلف کردیا مکمل صفایا کردیا لیکن قلعہ سیف اللہ کو چھوڑ کر دیگر اضلاع میں آپ جاکر دیکھ لیں یہ قریب قلعہ عبداللہ دیکھ لیں کہ کس مقدار میں اس ناسور ہیروئن کو فصلوں کی کاشت اور منشیات کا پھیلاؤ جاری ہے۔ اب تو صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ شیشہ جیسے خطرناک نشے کی سپلائی کی جارہی ہے تعلیمی اداروں تک پہنچ چکا ہے یہ نشہ آور اس کے ذریعے ہمارے قوم کے نوجوانوں کو تباہ کیا جارہا ہے، جب قوم کے نوجوانوں کو نشے کا عادی بنایا جائے گا جب وہ اپنے نشے کے لیے اپنے گھروں میں چوری کریں گے، دیہاتوں، علاقوں میں کریں گے، بدامنی میں اضافہ ہوگا تو پھر آپ ان سے اپنے وطن اور اس کے وسائل کی دفاع کیسے کریں گے؟ منظم سازش کے تحت ہمارے نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنا کر انہیں بدامنی پر مجبور کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے وطن میں کاروبار، تجارت، روزگار کے مواقع ختم کردیئے گئے ہیں۔ مائنز بند ہوچکے ہیں، مائینز اونرز سے بھتہ مانگا جاتا ہے، کوئلہ کانوں میں کام کرنیوالے بچے محفوظ نہیں، کانوں میں انتہائی سخت محنت کرنے کے باوجود ان کی زندگیاں محفوظ نہیں والدین یہاں تک مجبور ہوچکے ہیں کہ انہیں اپنے کام کرنے نہیں دیتے کہ وہ اپنے گھر کے پاس کوئی مزدوری کرلیں۔ مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ یہ ہر پیدا ہونیوالا بچہ آئی ایم ایف کا مقروض ہے، آئی ایم ایف کے قرضے جہاں ترقی کے لیے استعمال ہوئے اُن علاقوں میں پشتونخوا وطن شامل نہیں لیکن قرض کی ادائیگی مکمل شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ظلم کی انتہا ہوتی ہے، زیارت میں شہید ہونے والوں کے جنازے سرہ غوڑگئی میں ایف سی نے روک رکھے ہیں اور جنازے تک نہیں دیئے جارہے یہ کیسا انصاف اور کیسا قانون ہے اور کیسا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ۔ اسرائیل اور ایران جنگ میں ایران قوم نے متحد ہوکر تاریخی مثال پیش کی نہ صرف اپنے ملک بلکہ تمام عالم اسلام کی لاج رکھی۔ متحد و منظم قومیں ہمیشہ فتوحات حاصل کرتے ہیں۔ ایران نے اپنی پراکسیز بنائی اور اسرائیل کو الجھائے رکھا۔ ہمیں بھی اپنی قوم کو متحدکرنا ہوگا۔ اللہ تعالی تب تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔ آج بھی کہتا ہوں کہ اتفاق، متحد ہوکر اپنی دفاع کریں۔ اتحاد، اتفاق کا مظاہرہ نہیں کیا تو اس سے سخت حالات آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس احتجاجی دھرنے کے ساتھ کھڑے ہیں کوئی احسان نہیں یہ ہمارا فرض ہے، ہر قیمت پر آپ کا ساتھ دیں گے اور آپ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں اور ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل شریک ہیں اگر آج ان کے ساتھ نہیں ہوں گے تو یہ حالات کل آپ پر بھی آئے گا اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ہر صورت میں آپ کے ساتھ ہوگی اور کھڑی رہے گی۔
