سابق وزیر اعلی نواب ثناءاللہ زہری کا بلوچستان میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر اظہار تشویش

فرض شناس افسر کو نشانہ بنانا نہ صرف انتہائی بزدلانہ بلکہ ریاستی اداروں اور نظامِ انصاف پر حملہ ہے، نواب ثناءاللہ خان زہری


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے بلوچستان میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ، ان کے محافظ اور دیگر بے گناہ شہریوں کی شہادت پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے سابق وزیر اعلی نواب ثناء اللہ خان زہری نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج، ڈرائیور اور دیگر زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ سیشن جج قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے اور اپنے آئینی و پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے جا رہے تھے۔ ایسے فرض شناس افسر کو نشانہ بنانا نہ صرف انتہائی بزدلانہ بلکہ ریاستی اداروں اور نظامِ انصاف پر حملہ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آئے روز ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے، دہشت گردی، قومی شاہراہوں کی بندش، مسافروں پر حملوں اور لوٹ مار جیسے واقعات میں اضافہ باعثِ تشویش ہے۔ ایسے حالات صوبے کے عوام میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر رہے ہیں، جس کا فوری تدارک ناگزیر ہے سابق وزیر اعلی نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہاکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کیے جائیں اور دہشت گرد عناصر و امن دشمن قوتوں کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے پرامن عوام کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ عوام کو تحفظ فراہم کرے، شاہراہوں کو محفوظ بنائے اور امن و امان کی مکمل بحالی کے لیے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کرے۔

WhatsApp
Get Alert