دل کی اچھی صحت کے لیے چہل قدمی کا مثالی وقت کونسا ہوتا ہے؟


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)ہم میں سے بیشتر افراد کی نظر میں چہل قدمی کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ یہ وہ کام ہے جو ہم روز ہی کرتے ہیں، مگر یہ عادت ورزش کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
یہ بات تو پہلے ہی ثابت ہوچکی ہے کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا متعدد امراض جیسے ذیابیطس، امراض قلب اور موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ روزانہ کے معمولات میں چہل قدمی کو شامل کرکے متعدد امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔
خاص طور پر اس عادت سے امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ دل کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے چہل قدمی کرنے کا بہترین کونسا ہوتا ہے؟
اس کا جواب امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
یونیورسٹی آف میساچوسٹس چن میڈیکل اسکول کی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ 30 منٹ تک چہل قدمی کرنے سے دل کی صحت کو تحفظ ملتا ہے، مگر ایک مخصوص وقت پر ایسا کرنے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
اس تحقیق میں 14 ہزار سے زائد افراد کے اسمارٹ واچز کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی جو ایک سال میں اکٹھا کیا گیا تھا۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ صبح کے 7 سے 8 بجے کے درمیان ورزش کرنے والے افراد میں دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ سب سے زیادہ کم ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق صبح کے وقت ورزش کرنے کی عادت سے امراض قلب کا خطرہ 31 فیصد، ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ 30 فیصد، موٹاپے کا خطرہ 35 فیصد جبکہ ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ 18 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
اگر دن بھر میں مزید جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنایا جائے تو یہ خطرہ مزید کم ہو جاتا ہے۔
تو دل کی اچھی صحت کے لیے صبح 7 سے 8 بجے کے درمیان چہل قدمی بہترین وقت ہے۔
یہ پہلی تحقیق نہیں جس میں چہل قدمی کرنے کے اوقات سے جسمانی صحت پر مرتب اثرات پر بات کی گئی ہے۔
اس سے قبل 2012 کی ایک تحقیق میں صبح کے وقت چہل قدمی کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔
اس تحقیق میں بتایا گیا کہ صبح کے وقت چہل قدمی کرنے والے افراد میں کھانے کی اشتہا کم ہوتی ہے جبکہ وہ دن بھر جسمانی طور پر متحرک رہتے ہیں۔
دیگر تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ صبح کے وقت ورزش جیسے چہل قدمی کرنے سے جسمانی توانائی کا احساس بڑھ سکتا ہے۔
صبح کے وقت ورزش سے خون کا بہاؤ بڑھتا ہے اور صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، البتہ رات گئے تک جاگنے والے افراد کے لیے اس وقت چہل قدمی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
جہاں تک دوپہر میں چہل قدمی کرنے کی بات ہے تو اس حوالے سے بھی تحقیقی کام ہوا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ ایسی ملازمت کرتے ہیں جس میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ کچھ دیر بعد کرسی سے اٹھ کر چہل قدمی کرلیں۔
ماہرین کے مطابق چہل قدمی کرنے سے لوگوں کو اپنے دفتری ساتھیوں سے ملنے جلنے کا موقع بھی ملتا ہے جبکہ خون کے لیے بہاؤ بہتر ہوتا ہے، جس سے کام پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اسی طرح اگر دوپہر کو غنودگی کا ساما ہوتا ہے تو چہل قدمی کرنے سے اس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے اور تناؤ بھی گھٹ جاتا ہے۔
کچھ تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ سہ پہر کو چہل قدمی کرنے سے جسمانی اور ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
اس وقت جسمانی سرگرمیوں سے کھانے کی اشتہا کو دبانے میں بھی مدد ملتی ہے اور جسمانی وزن کو کنٹرول کرنا بھی ممکن ہوتا ہے۔
جہاں تک شام میں چہل قدمی کرنے کی بات ہے تو اس سے سے دن بھر کی تھکاوٹ دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اس وقت چہل قدمی کرنے سے بے وقت کچھ کھانے کی خواہش کو قابو کرنے میں مدد ملتی ہے اور رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کرنے سے بلڈ شوگر کی سطح مستحکم رہتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert