مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں مسلسل کرفیو سے انسانی بحران جنم لے رہا ہے ، ادویات، خوراک اور پانی ناپید، فصلیں تباہ، حکومت بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی میں بُری طرح ناکام ہے، سینیٹر کامران مرتضیٰ
حکومت شہریوں کو ریلیف دینے کے بجائے تماشائی بنی ہوئی ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کرفیو فوری ختم کیا جائے، مطالبہ

اسلام آباد / کوئٹہ: جمعیت وکلا فورم پاکستان کے مرکزی صدر اور سینیٹر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے ضلع مستونگ کی سب تحصیل کھڈکوچہ میں گزشتہ تین روز سے نافذ کرفیو پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے، کیونکہ طویل پابندیوں کے باعث علاقے میں انسانی بحران سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرفیو کے تسلسل نے نہ صرف ہزاروں شہریوں کی روزمرہ زندگی مفلوج کر دی ہے بلکہ خوراک، ادویات، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے خبر رساں ادارے یو این اے ے بات چیت میں کیا سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ کھڈکوچہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مریض بروقت ہسپتالوں تک نہیں پہنچ پا رہے، بزرگ افراد، خواتین، معصوم بچے اور دیگر کمزور طبقات سخت پریشانی میں مبتلا ہیں جبکہ متعدد خاندان بنیادی اشیائے ضروریہ سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرفیو کے باعث مقامی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کھڑی فصلیں، سبزیاں، باغات اور پھل بروقت منڈیوں تک نہ پہنچنے کی وجہ سے تباہ ہو رہے ہیں، جس سے کاشتکاروں کو لاکھوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں زراعت ہی لوگوں کی آمدن کا بنیادی ذریعہ ہے، ایسے میں مسلسل کرفیو نے کسانوں کو شدید مالی مشکلات میں دھکیل دیا ہے سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور بھی گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بازار بند ہونے، آمدورفت معطل ہونے اور کاروباری سرگرمیاں رک جانے سے مقامی تاجروں اور دکانداروں کو بھی بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے انہوں نے کہا کہ ریاست کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا بھی مکمل تحفظ کرے۔ کسی بھی حفاظتی اقدام کے دوران عوام کو علاج معالجے، خوراک، صاف پانی، ادویات اور نقل و حرکت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوںنےوفاقی حکومت، حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ کھڈکوچہ میں نافذ کرفیو کا فوری ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اگر سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مکمل خاتمہ ممکن نہ ہو تو کم از کم روزانہ مخصوص اوقات میں کرفیو میں نرمی کی جائے تاکہ شہری اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔
مریض ہسپتالوں تک پہنچ سکیں اور خوراک و ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے سینیٹر کامران مرتضی نے مزید کہا کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر میڈیکل کیمپ قائم کیے جائیں، ایمبولینس سروس کو بلا رکاوٹ رسائی دی جائے، پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ضرورت مند خاندانوں میں راشن تقسیم کیا جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف عوامی، سماجی اور سیاسی حلقے بھی کھڈکوچہ میں جاری کرفیو کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مشکلات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایسے اقدامات کرے جن سے ایک طرف امن و امان برقرار رہے اور دوسری جانب عام شہریوں کی زندگی معمول پر واپس آ سکے انہوں نے آخر میں کہا کہ حکومت انسانی جانوں کے تحفظ اور عوامی مشکلات کے خاتمے کو اولین ترجیح دے، متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کا احساس کرے اور کھڈکوچہ کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری، موثر اور عملی اقدامات کرے تاکہ علاقے میں معمولات زندگی بحال ہوں اور شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔
