موٹاپے سے نجات دلانے کے لیے بہترین 13 غذائیں


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)جسمانی وزن میں اضافہ تو کسی بھی فرد کو پسند نہیں ہوتا بالخصوص اگر پیٹ باہر نکلنا شروع ہوجائے۔
موٹاپا دنیا بھر میں وبا کی طرح پھیل رہا ہے جو متعدد دائمی امراض بشمول ذیابیطس، کینسر اور دیگر کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔
درحقیقت دنیا بھر میں جوان افراد میں موٹاپا عام ہوتا جا رہا ہے۔
مگر اچھی بات یہ ہے کہ چند عام غذاؤں کا استعمال کرکے آپ جسمانی وزن میں کمی لانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
انڈے
انڈے متعدد غذائی اجزا اور پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں اور پروٹین ایسا غذائی جز ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے کا احساس برقرار رکھتا ہے۔
2020 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ ناشتے میں انڈے کھانے والے افراد کے اندر پیٹ بھرنے کا احساس 4 گھنٹوں تک برقرار رہتا ہے۔
اسی طرح ایک اور تحقیق کے مطابق انڈوں پر مشتمل ناشتہ کرنے والے افراد کو زیادہ وقت تک بھوک نہیں لگتی۔
سبز پتوں والی سبزیاں
سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک اور ساگ وغیرہ میں فائبر اور ایسے غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو پیٹ بھرنے کے احساس کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ جسم میں پانی کی کمی سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
ان سبزیوں میں ایسے نباتاتی مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں جو کھانے کی اشتہا کو زیادہ بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
مچھلی
مچھلی میں معیاری پروٹین، صحت کے لیے مفید چکنائی اور دیگر ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں۔
ان سب کا امتزاج پیٹ کو بھرے رکھنے اور جسمانی وزن کو کنٹرول میں مدد فراہم کرتا ہے۔
اسی طح مچھلی میں آئیوڈین بھی موجود ہوتا ہے جو کہ تھائی رائیڈ اور میٹابولزم کے افعال کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
گوبھی یا اس کی دیگر اقسام
گوبھی، بند گوبھی یا بروکولی وغیرہ فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں اور پیٹ بھرنے کا احساس دیر تک برقرار رکھتی ہیں۔
ان سبزیوں سے جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہیں کیونکہ ان میں فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ کیلوریز کم ہوتی ہیں۔
بیج اور دالیں
چنے، لوبیا یا دالوں میں پروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔
ان میں فائبر کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جس سے غذا سست روی سے ہضم ہوتی ہے اور پیٹ بھرنے کا احساس زیادہ دیر تک برقرار رہتا ہے۔
جب پیٹ بھرنے کا احساس دیر تک برقرار رہتا ہے تو بے وقت کھانے کی عادت سے بچنے میں مدد ملتی ہے اور جسمانی وزن میں کمی لانا آسان ہو جاتا ہے۔
سوپ
کھانے کا آغاز سوپ سے کیا جائے تو کم غذا جزو بدن بنانے میں مدد ملتی ہے۔
کم کیلوریز کے استعمال سے جسمانی وزن میں کمی لانا ممکن ہو جاتا ہے۔
یخنی یا سوپ سے صحت کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور موسمی نزلہ زکام سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
ڈارک چاکلیٹ
روزانہ کچھ مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کا استعمال بھی جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ڈارک چاکلیٹ کھانے والے افراد چند گھنٹے بعد جنک فوڈ کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔
دہی
دہی میں پروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔
اگر آپ ناشتے میں دہی کھاتے ہیں تو دن بھر بے وقت کھانے سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ پروٹین کھانے کی اشتہا کم کرتا ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن کا آغاز پروٹین سے بھرپور غذا سے کرنے سے پیٹ بھرنے کا احساس دیر تک برقرار رہتا ہے اور رات کو زیادہ چکنائی یا چینی سے بھرپور غذاؤں کو کھانے کی خواہش کم ہوتی ہے۔
بس یہ خیال رکھیں کہ دہی میں چینی کو شامل نہ کریں۔
گریاں
بادام، اخروٹ یا مونگ پھلی جیسی گریوں کی کچھ مقدار کا روزانہ استعمال بھی جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ گریاں کھانے کے عادی افراد غذا کی کم مقدار کو جزوبدن بناتے ہیں۔
سیب
سیب کھانے کی عادت بھی موٹاپے سے نجات کے لیے بہترین ثابت ہوسکتی ہے۔
سیب کھانے سے بے وقت بھوک محسوس نہیں ہوتی۔
اسی طرح سیب میں فائبر جیسا غذائی جز بھی موجود ہوتا ہے جس سے پیٹ بھرنے کا احساس دیر تک برقرار رہتا ہے۔
گریپ فروٹ
گریپ فروٹ کھانے سے بھی جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن یا رات کو کھانے سے قبل آدھا گریپ فروٹ کھانے سے 12 ہفتوں میں جسمانی وزن میں 2 کلو کے قریب کمی آتی ہے۔
البتہ گریپ فروٹ کے جوس سے یہ فائدہ نہیں ہوتا اور اگر آپ ادویات استعمال کر رہے ہیں تو اس پھل کو ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔
کیلے
کیلوں میں موجود فائبر سے جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے کیونکہ اس سے پیٹ بھرنے کا احساس دیر تک برقرار رہتا ہے اور بے وقت کچھ کھانے کی خواہش نہیں ہوتی۔
البتہ اس پھل کی بہت زیادہ مقدار کھانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
سبز چائے
سبز چائے پینے سے بھی جسمانی وزن میں کمی لانا ممکن ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق اس مشروب سے جسم کے اندر کیلوریز جلانے والا انجن متحرک ہوتا ہے جس سے جسمانی وزن میں کمی لانا آسان ہوجاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

WhatsApp
Get Alert