کمرہ عدالت میں عظمیٰ بخاری اور فلک جاوید میں تلخ کلامی!

مجھے کوئی نہ سکھائے، میں خود وکیل ہوں، عظمیٰ بخاری ۔۔ تم جھوٹی عورت ہو، ثبوت تمہارے پاس ہے کوئی نہیں اور مجھے ایک سال سے جیل میں رکھا ہوا ہے، فلک جاوید کا جواب


لاہور(قدرت روزنامہ)لاہور کی ضلع کچہری میں صوبائی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری کی جانب سے دائر کردہ فیک ویڈیو کیس کی سماعت کے دوران شدید بدنظمی، تکرار اور تلخ کلامی دیکھنے میں آئی، جج نعیم وٹو کی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران ناصرف وکیلِ صفائی اور عظمیٰ بخاری کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا بلکہ عظمیٰ بخاری اور ملزمہ فلک جاوید بھی آپس میں الجھ پڑیں۔
اطلاعات کے مطابق سماعت کے آغاز پر فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق نے اعتراض اٹھایا کہ ’پہلے ملزمہ کو عدالت بلائیں، پھر کیس آگے بڑھے گا‘، اس پر عظمیٰ بخاری نے جواب دیا کہ ’آپ ڈکٹیٹر نہ بنیں اور آواز نیچی رکھ کر بات کریں‘ وکیل علی اشفاق نے جواباً کہا کہ ’یہاں ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ عدالت ہے کوئی فارم 47 کا الیکشن نہیں جہاں فراڈ چل جائے گا‘۔


بتایا گیا ہے کہ عدالت نے جیل حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ ملزمہ فلک جاوید کو 20 منٹ کے اندر عدالت پیش کیا جائے، ملزمہ کی پیشی کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عظمیٰ بخاری اور فلک جاوید کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ’مجھے کوئی نہ سکھائے کہ بیان کیا دینا ہے، میں خود وکیل ہوں، یہ ملزمہ جیل سے تیار ہو کر آتی ہے اور اسے سپیشل ٹریٹمنٹ مل رہا ہے، اس کی زبان دیکھیں‘۔
فلک جاوید نے جواب دیا کہ ’تم جھوٹی عورت ہو، تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اور مجھے ایک سال سے جیل میں ڈالا ہوا ہے، جب بات میری عزت پر آئے گی تو میں خاموش نہیں رہوں گی‘، اس سخت تلخ کلامی پر جج نعیم وٹو نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقین کو خاموش کروا دیا اور ریمارکس دیئے کہ ’عدالت میں مجھ سے اونچی آواز میں بولنے کا اختیار صرف مجھے ہے، مجھے بالکل پسند نہیں کہ کوئی مجھ سے اونچی آواز میں بات کرے‘۔
بعد ازاں روسٹرم پر آ کر عظمیٰ بخاری نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ ’میں کیس میں ملزمہ نہیں بلکہ کمپلیننٹ ہوں، 24 اور 25 جولائی 2025ء کی درمیانی شب میں اپنے کمرے میں سوشل میڈیا دیکھ رہی تھی کہ میرے نام سے ایک فیک ویڈیو لیبل کرکے وائرل کی جا رہی تھی، میں نے ملزمہ فلک جاوید کا ٹویٹر اکاؤنٹ دیکھا جس پر یہ ویڈیو لگائی گئی تھی اور بعد میں یہ پورے سوشل میڈیا پر پھیل گئی، یہ ایک عورت کی عزت کا معاملہ ہے‘۔
بیان ریکارڈ ہونے کے بعد فلک جاوید کے وکیل علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ ’انہیں گواہ پر جرح کے لیے کم از کم 6 گھنٹے درکار ہوں گے، اور یہ کہ کیس کو ایک سال سے تاخیر کا شکار بنایا جا رہا ہے‘، اس پر جج نعیم وٹو نے ریمارکس دیئے کہ ’اس کیس میں تاخیر عدالتوں کی وجہ سے نہیں ہوئی، آپ کے ایسوسی ایٹس آ کر تاریخیں لیتے تھے اور فیصلے چیلنج کیے گئے، ہم نے کوئی سپیشل ٹریٹمنٹ نہیں دیا اور نہ ہی ہم نے کوئی غیر معمولی کارروائی کی‘، ان ریمارکس کے ساتھ ہی عدالت نے عظمیٰ بخاری کے بیان کا انداراج مکمل کرتے ہوئے ان کے بیان پر جرح کے لیے 12 ستمبر 2026ء کی تاریخ مقرر کر دی۔

WhatsApp
Get Alert