زیارت شہداء کی دھرنا کمیٹی کے ساتھ معاہدے میں کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، مسلح جھتے اب بھی موجود ہیں ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی
بدامنی اور لاقانونیت دن بہ دن بڑھ رہی ہے، سرانان اور پشین بازار میں احتجاجی ریلیوں اور جلسوں کی تیاریاں

پشتون افغان ملت کو اذیت ناک صورتحال سے نجات کیلئے قومی اتحاد و اتفاق اور مشترکہ جدوجہد شرط اولین ہے
جنوبی پشتونخوا میں مسلط جعلی دہشتگردی کی حالیہ لہر حکومت اور اُن کے اداروں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے
پشین (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پشتون افغان ملت کو زندگی کے ہر شعبے میں درپیش اذیت ناک صورتحال سے نجات کیلئے قومی اتحاد و اتفاق اور سیاسی جمہوری قوتوں کی مشترکہ نکات کے تحت مشترکہ جدوجہد اور تحریک شرط اولین ہے پشتونخوا وطن پر مسلط جعلی دہشتگردی، بدامنی اور لاقانونیت منصوبہ بند شازش کے تحت پشتون ملت کو اپنے سیاسی، معاشی، ثقافتی ، واک و اختیار کے حصول کی جدوجہد سے دستبردار کرنے کی پشتون دشمن سازش ہے جس سے ہر صورت ناکام بنایا جائیگا۔ پارٹی کے عہدیدار اور کارکن اپنی تنظیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر پارٹی کو مزید فعال، وسیع اور منظم بنانے کیلئے اپنی جدوجہد مزید تیز کریں۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز علی ترین، سید احسان آغا،محمود ریاض اور علماء ونگ کے آرگنائزر مولوی فضل کریم نے ضلع پشین کے ضلعی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں گزشتہ رپورٹ پیش کی گئی اور اس کا جائزہ لیا گیا اور مسلط جعلی دہشتگردی کے خلاف ضلع پشین کی آل پارٹیز اور انجمن تاجران کے زیر اہتمام 4 ستمبر کو سرانان بازار اور 7 ستمبر کو پشین بازار میں احتجاجی ریلیوں اور احتجاجی جلسوں کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور مختلف علاقائی یونٹوں کے اجلاسوں کا انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا میں مسلط جعلی دہشتگردی کی حالیہ لہر حکومت اور اُن کے اداروں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے کیونکہ حکومت اور اُن کے اداروں کی پہلی ذمہ داری عوام کے سر ومال و عزت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے لیکن بدامنی اور لاقانونیت کی صورتحال دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور زیارت شہداء کے دھرنا کمیٹی کے ساتھ معاہدے میں جو وعدے کئے گئے تھے اُن پر بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا ، زیارت، ہرنائی، شاہرگ اور اُن کے ملحقہ آس پاس علاقوں میں مسلح جھتے اب بھی موجود ہیں اور غریب عوام کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں جبکہ اس دوران سرانان اور زیارت کراس کے دہشتگردی کے واقعات اور ملوث عناصر کی عدم گرفتاری حکومت اور اُن کے اداروں کی دغلاپن کو ظاہر کرتی ہے جو قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں نے پارٹی اجلاسوں کے بروقت انعقاد اور اُن کے فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنانا ہوگا اور اپنے پارٹی کے تنظیمی کام کو سرانجام دینے میں کوتاہی سے گریز کرنا ہوگااور تمام تنظیمی فعالیت کو ماہانہ بنیاد پر مزید فعال بنانا ہوگااور پارٹی اجلاسوں کے فیصلہ شدہ نکات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ہر ہفتے کی بنیاد پر اُن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
