ولی عہد بوظہبی شیخ خالد بن محمد النہیان اور ایرانی صدر کے درمیان اہم ملاقات


نئی دہلی (قدرت روزنامہ) ولی عہد بوظہبی شیخ خالد بن محمد النہیان اور ایرانی صدر کے درمیان نئی دہلی میں اہم ملاقات ہوئی ہے۔ میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نئی دہلی میں ہونے والے برکس (BRICS) سربراہی اجلاس کے موقع پر ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد النہیان سے ملاقات کی اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید برآں رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں برکس سربراہ اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔

اجلاس میں مذاکرات کاروں نے مشترکہ اعلامیے کے مسودے پر اتفاق کیا، جس میں کسی ایک ملک کا نام لیے بغیر کسی بھی ملک کی جانب سے یکطرفہ جارحیت کی مذمت کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ برکس ممالک کو تاریخ کے درست رخ پر مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے برکس سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین مشرقِ وسطیٰ اور خلیج میں امن کے لیے برکس ارکان کے ساتھ مل کر کام کرے گا. انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ نے پورے خطے کے لوگوں کو شدید نقصانات پہنچائے چینی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ عالمی برادری کے مشترکہ مفادات میں نہیںصدر شی جن پنگ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج کی صورتحال مسلسل پیچیدہ ہو رہی ہے، جبکہ جاری جنگ کسی بھی صورت عالمی برادری کے مشترکہ مفادات میں نہیں. چینی صدر نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی امن کے قیام میں زیادہ فعال کردار ادا کریں اور تنازعات کے پرامن و سفارتی حل کیلئے کوششیں تیز کریں انہوں نے کہا کہ چین برکس کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و سکون کے حصول کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے شی جن پنگ نے برکس کو عالمی جنوب کی ایک اہم قوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کو عالمی امن، ترقی اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ میں زیادہ موثر کردار ادا کرنا چاہیے. چینی صدر نے اعلان کیا کہ چین 2027 میںبرکس کی سربراہی سنبھالے گا اور تنظیم کے 19ویں سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا قبل ازیںروس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ محدود تعداد میں ممالک کے مفادات کا تحفظ کرنے والا یک قطبی عالمی نظام اب ماضی کا حصہ بنتا جا رہا ہے. صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی، جغرافیائی اقتصادی، تکنیکی اور سماجی شعبوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں روسی صدر نے کہا کہ دنیا میں بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے، جس میں انسانی طرز زندگی، صحت کی سہولتوں کی سطح اور ماحول کا معیار نمایاں طور پر شامل ہیں. صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ معاشروں کی ساخت اور دنیا کا آبادیاتی نقشہ تبدیل ہو رہا ہے جبکہ محدود ممالک کے مفادات کے لیے کام کرنے والا بین الاقوامی تعلقات کا یک قطبی نظام ماضی کا حصہ بنتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ عالمی طاقت کا توازن اب عالمی جنوب اور مشرق میں ابھرنے والے ترقی کے نئے مراکز کے حق میں دوبارہ تقسیم ہو رہا ہے. روسی صدر کے مطابق دنیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور عالمی مسائل کے حل میں شرکت کے لیے اپنی آمادگی کا واضح اور دوٹوک اظہار کر رہے ہیں صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ابھرتے ہوئے کثیر قطبی عالمی نظام میں حقیقی کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے. انہوں نے کہا کہ عالمی حکمرانی کے طریقہ کار، اہم بین الاقوامی سیاسی اور اقتصادی اداروں اور سنگین چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کی کوششوں میں زیادہ سے زیادہ ممالک کو شامل کیا جانا چاہیے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ عالمی خوشحالی اور عوامی فلاح کے حصول کے لیے بین الاقوامی امن و استحکام کو یقینی بنانے کی مشترکہ کوششیں بھی انتہائی ضروری ہیں۔

WhatsApp
Get Alert