اسلامی اقدار اور خاندانی نظام کو کمزور کرنے کی منظم فکری یلغار جاری، نوجوان نسل چیلنجز کی زد میں: مولانا عبدالواسع
اساتذہ تدریس کو محض ملازمت نہ سمجھیں، قومیں صرف عمارتوں اور منصوبوں سے نہیں باکردار نسلوں کی تیاری سے بنتی ہیں: خطاب

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام صوبہ بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ آج اسلامی نظریات، دینی اقدار، تہذیبی روایات اور خاندانی نظام کو کمزور کرنے کے لیے مختلف فکری و نظریاتی رجحانات سرگرم ہیں۔ ایسے پْرفتن دور میں علمائ ، اساتذہ، والدین اور خصوصاً خواتین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نئی نسل کی دینی، اخلاقی، فکری اور تعلیمی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ نوجوان نسل کو اپنے اسلاف کی قربانیوں، اسلامی تاریخ، قومی جدوجہد اور آئینی شعور سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔دراثناں انھوں نے مسلم باغ گرلز کالج میں یومِ اساتذہ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ یومِ اساتذہ کے موقع پر ہم سب سے پہلے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ? کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی تعلیم و تربیت کے لیے معلم بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ? نے علم، اخلاق، کردار، عدل، برداشت اور انسانیت کی خدمت کے ذریعے ایسی نسل تیار فرمائی جس نے دنیا کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اس لیے ایک استاد کے لیے سب سے بہترین نمونہ خود نبی کریم ? کی تعلیم و تربیت کا اسلوب ہے۔انہوں نے کہا کہ استاد محض کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کا معمار اور نسلوں کے کردار کا تربیت کار ہوتا ہے۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کو صرف نصابی علم نہیں دیتا بلکہ اس کے اندر دیانت، نظم و ضبط، احساسِ ذمہ داری، برداشت، تحقیق، اخلاق اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا شعور بھی پیدا کرتا ہے۔ آج جب نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور مختلف فکری و تہذیبی چیلنجز کا سامنا ہے، اساتذہ کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تعلیمی اداروں کو علم کے ساتھ کردار، اخلاق، دینی شعور، تحقیق اور قومی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کا مرکز بنانا ہوگا۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ اسلام نے عورت کو عزت، تعلیم اور معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار عطا کیا ہے۔ آج کے پْرفتن دور میں اسلامی اقدار، حیا، پردہ اور خاندانی نظام کے تحفظ میں ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور باصلاحیت ماں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ماں صرف اپنے بچوں کی پرورش نہیں کرتی بلکہ پورے خاندان کی فکری، اخلاقی اور تربیتی بنیاد مضبوط کرتی ہے۔ اس لیے خواتین کی تعلیم درحقیقت صرف ایک فرد کی تعلیم نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت ہے۔انہوں نے کہا کہ عورت ایک بہترین معلم، ڈاکٹر، انجینئر، محقق، منتظم اور معاشرے کی مؤثر رکن بن سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو باوقار ماحول میں معیاری تعلیم، تحقیق اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ تعلیم یافتہ اور باکردار خواتین مضبوط خاندان، باشعور معاشرے اور ترقی یافتہ قوم کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرسکتی ہے۔ ایک ماں کی گود پہلی درسگاہ ہے اور ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کے مستقبل کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کے مستقبل کو سنوارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنے منصب کو محض ملازمت نہیں بلکہ قومی، اخلاقی اور دینی ذمہ داری سمجھیں۔ کتاب علم فراہم کرتی ہے، مگر استاد اس علم کو کردار اور عمل میں ڈھالتا ہے۔ اگر ہمارے تعلیمی اداروں سے علم کے ساتھ کردار، اخلاق، دینی شعور، تحقیق، برداشت، حب الوطنی اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا ہو تو یہی نوجوان ملک و قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے یومِ اساتذہ کے موقع پر ملک بھر کے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومیں صرف وسائل، عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے عظیم نہیں بنتیں بلکہ علم، کردار، شعور اور اعلیٰ تربیت سے آراستہ نسلوں کی تیاری سے ترقی کرتی ہیں، اور اس عظیم قومی فریضے میں استاد کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔
