ایوانِ صدر میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ
معتبر ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کر لیے گئے ہیں، ٹی وی اینکر کامران شاہد کی خبر

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)ٹی وی اینکر کامران شاہد کی خبر کے مطابق ایوانِ صدر میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ایکس پر کامران شاہد نے ٹویٹ میں کہا کہ معتبر ذرائع کے مطابق آج ایوانِ صدر میں ہونے والے اہم اجلاس میں اس بات پر تمام فریقین کا اتفاق ہو گیا ہے کہ خیبر پختونخوا (کے پی) میں ایمرجنسی نافذ کی جائے۔
اس مقصد کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 13 اکتوبر کو طلب کر لیے گئے ہیں، ایمرجنسی نافذ کرنے کی بنیاد گورنر کی جانب سے امن و امان کی صورتِ حال سے متعلق پیش کی گئی رپورٹ ہے۔
Breaking Now : According to credible sources in today’s high profile meeting at the President House as of now “ALL AGREED TO IMPOSE EMERGENCY IN KP” For that purpose the sessions of NA and Senate are summoned on 13 th October ! The Emergency is based on the Governor’s report on law and order !Will Maulana bring a breakthrough to reverse the descion ? Only less than one percent chance for such a reversal !
— Kamran Shahid (@FrontlineKamran) October 10, 2026
کیا مولانا اس فیصلے کو واپس کروانے کے لیے کوئی اہم پیش رفت کر سکیں گے؟ اس فیصلے کو واپس کروانے کے امکانات ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کا حل گورنرراج یا ایمرجنسی نہیں، اس سے بحران مزید بڑھے گا، ایمرجنسی صوبے اور وفاق دونوں کیلئے نقصان دہ ہوگی، دہشتگردی کے خاتمے پر اتفاق لیکن اختلاف طریقہ کار پر ہے، عمران خان سے بند ملاقاتیں فوری بحال کریں اس سے بہتری آئے گی۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے پشاور میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی مداخلت نے صوبائی حکومت کی رٹ کمزور کر دی۔
حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت عملاً گورنر راج ہے، صرف اعلان باقی ہے۔ دہشت گردی کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں، اس سے بحران مزید بڑھے گا- ایمرجنسی صوبے اور وفاق دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی- دہشت گردی کے خاتمے پر اتفاق، اختلاف صرف طریقۂ کار پر ہے- انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ایک سال سے بند ملاقاتیں فوری ختم کریں اس سے بہتری آئیگی ۔ ہمارے 3 وزرا سمیت 9 ایم پی ایز اور 8 ایم این ایز کو اٹھایا گیا ہے۔ خان صاحب کی بہنیں اور کزن جیل میں ہیں – یہ تشویشناک ہے- ملکی قیادت ہٹ دھرمی چھوڑے، سیاسی بصیرت دکھائے۔
