میرا فارم ہاؤس تجاوزات میں آتا ہے تو اسے بھی گرا دیں، کسی کو اجازت لینے کی ضرورت نہیں، فیصل کریم کنڈی

پشاور (قدرت روزنامہ) گورنر خیبر پختونخواہ فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر ان کا فارم ہاؤس بھی تجاوزات کی زد میں آتا ہے تو متعلقہ حکام کو اسے گرانے کی مکمل اجازت ہے، اس کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ تمام دوستوں اور متعلقہ افراد کو ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) کا دورہ کرنا چاہیے اور وہاں جاری ترقیاتی کاموں اور تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے فارم ہاؤس کے قریب ہائی وے پر ایک بورڈ نصب تھا اور وہاں سڑک کی توسیع کا منصوبہ جاری ہے۔ اگر سڑک کی توسیع کے لیے یہ بورڈ تجاوزات کی زد میں آ رہا تھا تو انتظامیہ نے اسے گرایا ہے، جس کا وہ خیرمقدم کرتے ہیں۔
گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ اگر ان کا فارم ہاؤس بھی تجاوزات میں شامل ہے اور سڑک کی توسیع یا دیگر سرکاری منصوبوں میں رکاوٹ بن رہا ہے تو حکام اسے بھی بلاجھجک گرا سکتے ہیں۔
"اگر میرا فارم ہاؤس تجاوزات میں آیا ہے تو آپکو بالکل اجازت ہے کے اسکو گرا دیں" گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی https://t.co/prrg1h1Jv0
— Abd (@AwaamiLens) November 6, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس مقصد کے لیے آج ہی متعلقہ حکام کو اجازت دے رہے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہونی چاہیے اور قانون کا اطلاق سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ گورنر نے تجاوزات کے خلاف کارروائی سے متعلق سوال پر کہا کہ کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی اپنی خواہش کے مطابق کسی کی جائیداد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو مکمل اختیار دے رکھا ہے کہ وہ قانون کے مطابق تجاوزات ختم کریں، تاہم اگر کسی افسر نے کسی کے ساتھ رعایت کی تو اس کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمود کمپلیکس کے معاملے پر عطاء الرحمٰن نے چیف سیکریٹری سے ملاقات بھی کی ہے۔ اگر وہاں قانونی طور پر تجاوزات ثابت ہوئیں تو کارروائی ہوگی، لیکن محض سوشل میڈیا پر کسی جگہ کو تجاوزات قرار دینے سے کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمے باقاعدہ تصدیق کے بعد ہی کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی مشکلات کا احساس ہے اور اسی لیے وہ پشاور آئے ہیں۔
