امریکا ایران معاہدے کے نکات 48 گھنٹوں میں مکمل ہو جائیں گے، مشاہد حسین سید کا دعویٰ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) سینئر سیاست دان مشاہد حسین سید نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران معاہدے کےلیے تیار ہیں ، آئندہ 48 گھنٹے میں ایم او یو کے نکات مکمل ہوجائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق سینیئر سیاستدان اور تجزیہ کار مشاہد حسین سید نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام پروگرام آن مائی ریڈار میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران ایک جامع امن معاہدے کے لیے تیار ہیں اور آئندہ 48گھنٹے میں ایم اویو کے نکات مکمل ہوجائیں گے۔
انہوں نے اس پیش رفت کو عالمی امن کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حساس ترین سفارتی مشن میں پاکستان نے ‘پل’ کا کردار ادا کیا ہے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اسلام آباد کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے قوی امکان ظاہر کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس تاریخی معاہدے پر دستخط اسلام آباد میں کیے جائیں گے جبکہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ عالمی دارالحکومت جنیوا میں منعقد ہو سکتا ہے۔
مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک اب جنگ کے بجائے پائیدار امن کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کشیدگی سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ نے معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ‘پروجیکٹ فریڈم’ روک دیا ہے اور امریکا کی جانب سے ایران کا ضبط شدہ بحری جہاز واپس کرنا لچک کا بڑا ثبوت ہے جبکہ عباس عراقچی کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ ایران اب باعزت طریقے سے جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔
سینیئر سیاستدان نے مزید کہا کہ ایران اس صورتحال میں سیاسی طور پر فاتح بن کر ابھرا ہے کیونکہ وہ نہ جھکا اور نہ ہی اس کا نظام تبدیل ہوا، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے حوالے سے
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ جنگ کی وجہ نہیں بلکہ جنگ کا نتیجہ تھا، جسے اب سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے۔
