جبری لاک ڈاﺅن کیخلاف 11 مئی سے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز ہوگا، مرکزی تنظیم تاجران پاکستان

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے رکن سینٹرل کمیٹی اور بلوچستان کے مرکزی ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری جبری لاک ڈاﺅن کے خلاف مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی کال پر ملک گیر احتجاجی سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت سوموار 11 مئی کو ملک کے مختلف شہروں میں پریس کانفرنسز اور پریس کلبز کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے جبکہ منگل 12 مئی کو مارکیٹوں اور بازاروں میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ عید کی آمد میں اب چند دن باقی رہ گئے ہیں اور یہی وہ دن ہوتے ہیں جب تاجر سال بھر کے نقصان کو کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم موجودہ جبری لاک ڈاﺅن نے کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کر دیا ہے اور مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے دکاندار، یومیہ بنیاد پر کاروبار کرنے والے افراد اور مختلف شعبوں سے وابستہ تاجر شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ ملکی معیشت بھی جمود کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ کاشف حیدری نے کہا کہ تاجر برادری پہلے ہی بھاری ٹیکسز، ایف بی آر کے نوٹسز، بجلی، گیس اور دیگر اخراجات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور ایسے میں جبری لاک ڈاﺅن نے ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف تاجر طبقہ مزید بحران کا شکار ہوگا بلکہ ہزاروں مزدور اور دیہاڑی دار افراد بھی متاثر ہوں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جبری لاک ڈاﺅن ختم کیا جائے، تاجروں کے تحفظات دور کیے جائیں اور کاروباری سرگرمیوں کو معمول کے مطابق بحال کیا جائے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
