ٹین بلین ٹری منصوبہ بلوچستان میں کاغذی دعوؤں تک محدود، اربوں خرچ ہونے کے باوجود نتائج غائب — پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سنگین سوالات اٹھادئیے


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین ولی محمد نورزئی، زابد علی ریکی، غلام دستگیر بادینی، محمد خان لہڑی، رحمت صالح بلوچ اور صفیہ بی بی نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات عمران گچکی،اسپیشل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ڈائریکٹر آڈٹ قدیم آغا، اور ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال بھی موجود تھے۔
اجلاس میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ بلوچستان کی جانب سے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام (TBTTP) فیز ون اور گرین پاکستان پروگرام کی خصوصی آڈٹ رپورٹ 2019 تا 2022 کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں، اندرونی کنٹرول کی کمزوریوں، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں اور منصوبے کے اہداف حاصل نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایک ارب سے زائد پودے لگانے کا ہدف پورا نہ ہوسکا اور مقررہ ہدف کے مقابلے میں صرف ایک کروڑ پچیس لاکھ سے زائد پودے لگائے گئے۔ رپورٹ میں ماحولیاتی اثرات کے جائزے میں ناکامی، پی سی ون اہداف پر عملدرآمد نہ ہونا، ریکارڈ فراہم نہ کرنا، مانیٹرنگ و ایویلیوایشن نہ کرنا، مشکوک و بے ضابطہ اخراجات، اوپن ٹینڈر سے بچنے کے لیے اخراجات کی تقسیم، نامکمل کاموں کی ادائیگیاں اور جعلی تکمیلی رپورٹس سمیت متعدد سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔
اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے منصوبے کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ رکن کمیٹی ولی محمد نورزئی نے کہا کہ ٹین بلین ٹری سونامی منصوبے کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے مگر بیشتر علاقوں میں اس کے اثرات نظر نہیں آرہے۔ انہوں نے منصوبے کی شفافیت اور نگرانی پر سوالات اٹھائے۔
رکن کمیٹی زابد علی ریکی نے کہا کہ واشک میں شجرکاری نہ ہونے کے برابر ہے اور عوام کو منصوبے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات کی کارکردگی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔
رکن کمیٹی غلام دستگیر بادینی نے کہا کہ منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں اور ناقص منصوبہ بندی نے پورے پروگرام کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
رکن کمیٹی محمد خان لہڑی نے کہا کہ نصیر آباد میں عملی طور پر کوئی شجرکاری نظر نہیں آتی، نہ پودے لگائے گئے اور نہ ہی زمین پر منصوبے کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلاتی اراضی پر قبضے بھی لمحۂ فکریہ ہیں۔ اجلاس کے دوران محکمانہ مؤقف پر انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے پاس ہزاروں ایکڑ اراضی موجود ہے تاہم ان پر قبضے ہوچکے ہیں، جس پر کمیٹی اراکین نے قبضہ شدہ اراضی فوری واگزار کرانے کی ہدایت کی۔
رکن کمیٹی رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ پنجگور میں ٹین بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوا اور تمام دعوے صرف کاغذوں تک محدود رہے۔
رکن کمیٹی صفیہ بی بی نے کہا کہ ٹین بلین ٹری سونامی منصوبہ صرف اعلانات اور فائلوں تک محدود رہا جبکہ عوام کو اس منصوبے کے ثمرات کہیں نظر نہیں آئے۔
چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے ہدایت دی کہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے منٹس فوری طور پر پی اے سی کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔ کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ 2018 کی آسامیوں کا اعلان اب کیوں کیا گیا اور اس میں اتنی غفلت کیوں برتی گئی۔
اجلاس کے دوران اراکین نے سوال اٹھایا کہ جب مویشی پودے کھا جاتے ہیں تو محکمہ ان کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے۔ کمیٹی اراکین نے کہا کہ وہ خود مختلف اضلاع کا دورہ کرکے زمینی حقائق کا جائزہ لیں گے۔
چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ تمام اراکین نے مشترکہ طور پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاس میں تمام پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا جبکہ دوروں کے بعد مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے

WhatsApp
Get Alert