آئی ایم ایف کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک لین دین کی نگرانی سخت کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد0قدرت روزنامہ) آئی ایم ایف نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک لین دین کی نگرانی سخت کرنے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک مالی لین دین اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نگرانی کا نظام مزید بہتر بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

آئی ایم ایف نے رئیل اسٹیٹ اور غیر مالیاتی کاروباری و پیشہ ورانہ شعبوں کی جانب سے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی کم تعداد پر تشویش ظاہر کی ہے۔

آئی ایم ایف کو خدشہ ہے کہ غیر ٹیکس شدہ اور کالے دھن کا ایک بڑا حصہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں لگایا جا رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ میں اضافے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں جبکہ بینفیشل اونرشپ’ (حقیقی مالکان) کی معلومات کے تبادلے میں موجود خامیوں کو فوری دور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی نگرانی کے لیے قائم کردہ ڈی این ایف بی پی نظام کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے، ایف بی آر نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی نگرانی کیلئے ڈی این ایف بی پی ایک نظام قائم کیا تھا، جس کے تحت مشکوک لین دین کی رپورٹس فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کوبھیجی جاتی ہیں‌۔

ذرائع کے مطابق یف بی آر نے مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر چھاپے مار کر فروخت اور آمدنی چھپانے کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، موجودہ نظام کے تحت مشکوک لین دین کی رپورٹس فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو بھیجی جاتی ہیں، تاہم آئی ایم ایف اس کی موجودہ رفتار سے مطمئن نہیں ہے۔

آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ اسے پاکستان میں مالیاتی نگرانی، منی لانڈرنگ اور بینکاری شعبے کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔

WhatsApp
Get Alert