ایران کا بحرین میں امریکی ڈیٹا سینٹر اور اردن میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران (قدرت روزنامہ)ایران نے امریکا کے حالیہ حملوں کے جواب میں بحرین، اردن اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب اردن کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے داغے گئے سات میزائل اور چھ ڈرون مار گرائے، جب کہ امریکا نے ایرانی دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
ایران کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے امریکا کے حالیہ حملوں کے جواب میں بحرین، اردن اور کویت میں متعدد امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی فوج کے مطابق بحرین کے عیسیٰ ایئر بیس پر موجود امریکی فوج کے بیرکس، ایندھن کے ذخائر، ساز و سامان کے گودام اور دیگر تنصیبات پر آرش خودکش ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ بحرین میں امریکی کمپنی ایمیزون سے منسلک ایک ڈیٹا سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم بحرین اور ایمازون نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بحرین میں دھماکے اور خطرے کے سائرن سنے گئے، تاہم حکام نے ان دونوں واقعات کے درمیان تعلق کی تصدیق نہیں کی۔ بعد ازاں بحرینی حکام نے کہا کہ ایرانی فضائی حملوں کو ناکام بنا کر متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا۔
ایرانی فوج نے اردن کے الازرق فوجی اڈے پر بھی حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں طیاروں کے ہینگر، مرمت مراکز اور فوجی بیرکس کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب اردن کی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے سات میزائل اور چھ ڈرون مار گرائے، جن سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
کویت کے بارے میں ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے کیمپ الدیری، کیمپ دوحہ اور کیمپ عریفجان میں امریکی فوجی تنصیبات اور گوداموں پر ڈرون حملے کیے۔ پاسدارانِ انقلاب نے علی السالم ایئر بیس پر اسلحہ ڈپو تباہ کرنے اور امریکی اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ آپریشن نصر 2 کی ستائیسویں لہر کے دوران اردن کے الازرق اڈے پر امریکی فوجی رہائش گاہ، متعدد جنگی طیاروں، پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام اور ایک جاسوس غبارے کو تباہ کیا گیا، جب کہ کئی امریکی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو اسے پہلے سے مختلف اور زیادہ سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب امریکا نے تاحال ایران کے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جنہیں امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
