کوئٹہ کی گنجان آبادیوں پر راکٹ حملے حکومتی اور سیکیورٹی اداروں کی کھلی نااہلی ہے، پشتونخواملی عوامی پارٹی

اربوں کے سیکیورٹی بجٹ، بھاری نفری اور ناکہ بندیوں کے باوجود دہشت گرد کارروائیاں کر کے کیسے فرار ہو جاتے ہیں؟ جرائم کے مراکز کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کا مطالبہ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کوئٹہ کے گنجان آباد علاقوں میں راکٹ حملوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومتی نااہلی قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک طرف حکومت حالات کو “کنٹرول” میں بتاتی ہے، جبکہ دوسری طرف شہر بھر میں ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری، ناکہ بندیوں اور ٹول پلازوں کی موجودگی کے باوجود دہشت گرد عناصر باآسانی کارروائیاں کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔ پارٹی نے سوال اٹھایا کہ عوام کے ٹیکسوں سے سیکیورٹی کی مد میں سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود شہریوں کا جان و مال غیر محفوظ کیوں ہے اور یہ مسلح عناصر کہاں سے آتے ہیں؟بیان میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں کالی شیشوں والی گاڑیوں میں مسلح افراد دندناتے پھر رہے ہیں، جبکہ منشیات کے اڈے اور بھتہ مافیا بھی سرگرم ہو چکی ہے جنہیں مبینہ طور پر بعض پولیس تھانوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ غبرگ، ہنہ اور پشتون آباد سمیت تمام متاثرہ علاقوں میں دہشت گردانہ واقعات میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے اور جرائم کے مراکز کے خلاف بلاامتیاز آپریشن شروع کیا جائے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور “سب ٹھیک ہے” کے کھوکھلے بیانات کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے عوام میں پائے جانے والے عدم تحفظ کے احساس کو ختم کیا جائے۔

WhatsApp
Get Alert