’تین لاکھ میں طالبات کی فروخت‘ انسانی اسمگلنگ کے بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش


پٹنہ(قدرت روزنامہ)بھارتی ریاست بہار کی نالندہ پولیس نے لڑکیوں کی اسمگلنگ میں ملوث ایک بڑے بین ریاستی گروہ کا خاتمہ کرتے ہوئے چار ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزمان میں دو خواتین اور دو مرد شامل ہیں، جن کا تعلق بہار اور راجستھان سے ہے۔ پولیس نے کارروائی کے دوران تین کمسن بچیوں کو بازیاب کرا کے فروخت ہونے سے بچا لیا ہے۔
ڈی ایس پی سنجے کمار جیسوال کے مطابق یہ کارروائی 10 اپریل کو راہوئی تھانہ علاقے سے دو نابالغ چچا زاد بہنوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ پر عمل میں لائی گئی۔ پولیس کی خصوصی ٹیم نے تکنیکی بنیادوں پر تفتیش کرتے ہوئے پتہ چلایا کہ لڑکیوں کو راجستھان کے شہر بیکانیر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں سے انہیں بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔
پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ گروہ غریب اور کمسن لڑکیوں کو بہتر زندگی اور پیسوں کا لالچ دے کر ان کی برین واشنگ کرتا تھا اور پھر انہیں لاکھوں روپے میں فروخت کر دیتا تھا۔ گرفتار میاں بیوی نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے لڑکیوں کو شادی کے بہانے تین لاکھ روپے میں خریدا تھا۔
گروہ کی ایک خاتون رکن نے انکشاف کیا کہ وہ ہر لڑکی کو ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے کے عوض فروخت کرتی تھی اور اس سے قبل بھی کئی لڑکیوں کو اسمگل کر چکی ہے۔
پولیس نے راجگیر اور مان پور میں چھاپے مار کر گروہ کے مزید کارندوں کو گرفتار کرلیا جبکہ چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والی ایک اور لڑکی کو بھی بازیاب کرایا۔ بازیاب ہونے والی لڑکیوں کو قانونی کارروائی کے بعد چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert